کوئٹہ: بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل، گیس کی بندش اور بجلی کی طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ متعدد علاقوں میں رات کے وقت سفر پر بھی سخت پابندیاں برقرار ہیں، جس سے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی بیشتر مرکزی سڑکیں بند ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔ شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں جبکہ ایمبولینس اور دیگر ایمرجنسی سروسز بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
سنگین عوامی مسائل کے باوجود، بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں یہ مسائل ایجنڈے کا حصہ نہ بن سکے۔ جمعرات کے اجلاس میں ارکان نے صرف ایئرلائنز کے کرایوں میں اضافے کے خلاف قرارداد منظور کی، جبکہ عوامی مشکلات پر کوئی بحث یا لائحہ عمل پیش نہ کیا گیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہوتی جا رہی ہے، مگر نمائندے صرف اپنے مفادات سے جڑے معاملات اٹھا رہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر انٹرنیٹ، گیس اور بجلی کی بحالی کے ساتھ ساتھ کوئٹہ میں ٹریفک کے بحران کے حل کے لیے بھی اقدامات کرے۔