کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ اجتماع عام کیلئے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے قافلے روانہ ہوگئے
آج بھی قافلے روانہ ہوں گے اجتماع عام میں اہل بلوچستان سے مقتدرقوتوں اورطاقتوراداروں اسٹبلشمنٹ کی زیادتیوں ناانصافیوں کے خلاف آوازبلندکیاجائیگا۔
انٹرنیٹ، بارڈر ،شاہراہیں، ریلوے، تجارت بندکرنے والے اہل بلوچستان کے دشمن ہیں۔کب تک بلوچستان نوگوایریااورلٹیروں کیلئے سونے کی چڑیاہوگی۔
لوٹ مارزیادتیاں ناانصافی اورلاقانونیت ہرصورت بندکرناہوگا۔
“بلوچستان کی محرومیوں کا درد اب مینارِ پاکستان تک پہنچے گا۔
21، 22 اور 23 نومبر اجتماع عام میں لاکھوں عوام کے سامنے بلوچستان کا مقدمہ پیش کرونگا۔
یہ جدوجہدحق، انصاف اور قوم کی آواز کے لیے ہیاور اس آواز کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے کوئٹہ میں مختلف مقامات پرتقاریب سے خطاب اوروفودسے سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیاانہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماع عام آئین سے منحرف ظالمانہ نظام کو بدلنے کی تحریک کا نقطہ آغاز ہوگاہمارااجتماع عام ظلم و جبر کے مسلط نظام کی تبدیلی کے لئے ہے۔
پورے ملک بلخصوص بلوچستان میں فساد پھیل گیا ہے،انتشار بڑھتا جارہا ہیبلوچستان کے بگڑتی صورتحال سے اہل بلوچستان پریشان ہیں مقتدرقوتیں اسٹبلشمنٹ ومسلط حکمران منفی تماشا نہ دیکیھے بلکہ عوامی مشکلات ومسائل کے حل کیلئے عملی وفوری اقدامات کریں طاقت کااندھادنداستعمال سے نفرے پھیل رہی ہے یہ سب کچھ قومی سلامتی کے لئے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
عوام کے عوام کے اندر بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے بلوچستان کے عوام کو حوصلہ دینا اور مایوسی سے نکالناضروری ہوگیا ہے۔جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماع عام موجودہ حالات میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
آئین کو بازیچہ اطفال بنا دیا گیا ہے اور مفاد پرست زبردستی وسائل اقتدار پرمسلط ٹولہ اپنی مرضی واپنی مفادات کیلئے آئین میں تبدیلیاں کررہاہے۔اجتماع عام آئندہ آنے والے مراحل کے لئے مضبوط جدوجہد کا استعارہ بنے گا۔
ہم ملک میں جاگیرداری اور سرمایہ داری کے آئین سے متصاد م نظام کو بدلنے اسلامی نظام کے قیام کی بات کررہے ہیں۔مفاد پرست قوتوں نے پورے نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔جماعت اسلامی نے پارلیمنٹ کے اندروباہرمظلوم عوام کے مسائل مشکلات کے حل زیادتیوں وناانصافی کے خلاف اورحقوق کے حصول کیلئے بھرپورآوازبلندکیاہے اورکرتے رہیں گے۔