|

وقتِ اشاعت :   November 19 – 2025

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے زمین معاوضے کی ادائیگی کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ اداروں میں بدعنوانی ہوتی ہے، سرکاری دفاتر میں افسر تنخواہ بھی لیتے ہیں اور رشوت بھی لیتے ہیں، نظام میں لڑائی ہی حرام کھانے کی ہے۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زمین کے معاوضے کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ سی ڈی ے اپنا کام نہیں کرسکتا تو ایف آئی اے کو بھیج دیں، اداروں میں بد عنوانی ہوتی ہے ویری فیکیشن کا تو کوئی طریقہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے یہ نظام میں لڑائی ہی حرام کھانے کی ہی ہے، سرکاری دفاتر میں بیٹھے افسر تنخواہ بھی لیتے ہیں اور رشوت بھی لیتے ہیں۔درخواست گزار روسٹرم پر آئے اور موقف اپنایا کہ میں نے امانت داری سے نوکری کی ہے، اب کیا رشوت دوں؟تیسری نسل چل رہی ہے

لیکن یہ فیصلہ نہیں ہورہا، میرے والد کیس لڑتے لڑتے مر گئے۔عدالت نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو متعلقہ دستاویزات کی جانچ کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے سماعت 10دسمبر تک ملتوی کردی۔