|

وقتِ اشاعت :   November 19 – 2025

کوئٹہ: اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کی بلوچستان کے ادباہ اور شعراہ کے ساتھ نشست بلوچی اکیڈمی میں منعقد ہوئی۔

بلوچی اکیڈمی کی جانب سے ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں بلوچی ، پشتو اور براہوئی ادبی اداروں کے نمائندوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ اکادمی ادبیات بلوچستان سمیت پورے ملک کی ادبی اداروں کے تعاون اور مشاورت سے قومی زبانوں کی ترقی اور ترویج کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام قومی زبانوں میں نہ صرف ادبی اور تحقیقی کتابیں چھپ رہی ہیں بلکہ محدود وسائل کے اندر ملک کے کونے کونے میں ادبی تقریبات بھی منعقد کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ اس سلسلے میں بہت جلد اکادمی ادبیات بلوچستان میں تمام علاقوں کے ادیبوں اور شعراہ پر مشتمل سیمینار کا انعقاد کرنے جارہی ہے جس میں پورے صوبے سے ادیبوں اور دانشوروں کو نمائندگی دی جائے گی۔ تقریب سے بلوچی اکیڈمی کے چیئرمین ہیبتان عمر نے اکادمی ادبیات کے چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف سے بلوچستان کی زبانوں اور خاص کر بلوچی زبان کی ترویج کے لیے وفاقی حکومت کی مدد سے موجودہ کوششوں میں تیزی لانے کی طرف توجہ دلائی ۔

تقریب میں براہوئی اکیڈمی کے چیئرمین ڈاکٹر سوسن براہوئی، پشتو اکیڈمی کے چیئرمین حافظ رحمت اللہ نیازی، نقیب اللہ احساس، ڈاکٹر عادل اچکزئی ، بلوچی اکیڈمی کے کابینہ ممبران پروفیسر صدیق بلوچ، عرفان جمالدینی، ذاکر قادر، صادق بلوچ، سنگت رفیق، ممتاز یوسف اور ممبران ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، عبداللہ شوہاز ، ڈاکٹر بیزن سبا جبکہ اکادمی ادبیات کے ریجنل ڈائریکٹر قیوم بیدار اور بلوچستان کی معروف شاعرہ قندیل بدر بھی اس تقریب میں شریک تھے۔