|

وقتِ اشاعت :   November 19 – 2025

کوئٹہ: وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کہ اٹھارویں ترمیم سے پہلے بلوچستان میں 62 کے 62اراکین اسمبلی وزرا ہوتے تھے لیکن اٹھاروین ترمیم کے بعد وزرا کی تعداد پر پابندی لگ گئی ہے ،پارلیمانی سیکرٹری کا کام صرف پارلیمنٹ کے اندر محکمے کا بزنس چلنا ہے ،انہیں دستخط کے پاور نہیں ۔

یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلا س کے دوران اپوزیشن لیڈر کی جانب سے پوچھے گئے

سوال کے جواب میں کہی۔ وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ طے کیا گیا کہ کابینہ میں کتنے وزرا ہوں گے،پارلیمانی سیکرٹری کا کام پارلیمنٹ کے اندر سوال وجوابات میں وزیر اعلی کی مدد کرنا ہے وہ پارلیمنٹ کے اندر بزنس چلاتا ہے

ہم نے پارلیمانی سیکرٹری کو سہولت دینے کیلئے دفاتر دئیے ہیں تاکہ وہ پارلیمنٹ کے کام کو بہتر انداز سے چلاسکیں ہم نے پارلیمانی سیکرٹری کو نہ وزیر کہا ہے اور نہ کیا ہے۔ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی کا اختیارہے کہ وہ کسی کو بھی پارلیمانی سیکرٹری لگا سکتا ہے ،پارلیمانی سیکرٹری میری موجودگی میں سوالات کے جواب دے سکتے ہیں وہ محکمے کو پالیسی نہیں دے سکتے ہیں ،محکمہ کا انچارج وزیر ہوتا ہے۔