کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے بْلیدہ میں ایک استاد کا ماورائے عدالت قتل نہ صرف ایک جرم ہے
بلکہ ایک فکری نسل کشی ہے۔ ہم بطور طلبہ تنظیم ہمیشہ تعلیم اور علم کو ترجیح دی ہے۔
ہم آج بھی اساتذہ کو معاشرے کا مشعلِ راہ سمجھتے ہیں۔
بیان میں کہا کہ ہم ایاز بلوچ کے بے رحمانہ قتل کو بلوچ کی تعلیم اور دانش پر براہ راست حملہ تصور کرتے ہیں۔
ہم نہ صرف اس جرم کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں بلکہ اعلیٰ حکام سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ وہ مجرموں کے خلاف فوری اقدامات کریں۔