|

وقتِ اشاعت :   November 22 – 2025

کوئٹہ: صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ ہم محدود وسائل کے باوجود بلوچستان کے عوام کی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں۔

صحت کے شعبے میں انتظامات اور عملدرآمدکے نظام کومستحکم بنانے کے لیے جدید طریقہ کار اپنانا ضروری ہے۔

حکومت بلوچستان عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ’’پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹیو (PPHI) بلوچستان‘‘ کی مکمل معاونت کرے گی۔

یہ بات انہوں نے پی پی ایچ آئی بلوچستان کے ہیڈ آفس کے دورے کے موقع پر آفیسران سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سیکرٹری صحت داود خان خلجی، ایڈیشنل سیکرٹری صحت ثاقب کاکڑ اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز بلوچستان ڈاکٹر فاروق ہوت بھی ان کے ہمراہ تھے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر ایم بی راجہ دھاریجو نے صوبائی وزیر صحت کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان کے عوام کوبنیادی طب کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے پی پی ایچ آئی کے زیرانتظام صوبے میں 913 طبی مراکز بشمول 902 بی ایچ یوز فعال ہیں۔

ماں اوربچے کی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے پی پی ایچ کے زیرانتظام 136 لیبر رومزکاقیام عمل میںلایاگیا ہے جن میں77 24/7 خدمات فراہم کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ انسدادپولیو اور معمول کی ویکسی نیشن مہم کوبہتر بنانے کے لیے 314 ویکسی نیٹرز کو عارضی بنیادوںپر تعینات کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، صوبے میں 493 سٹیٹک سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ڈاکٹر دھاریجو نے مزید بتایا کہ پی پی ایچ آئی نے ابتدائی مرحلے میں648 بنیادی مراکزصحت کو سولرانرجی پرمنتقل کردیاہے۔ کوئٹہ اور دکی مائننگ ایریا میں ایمرجنسی ریسپانس سینٹرز کام کر رہے ہیں

تاکہ ہنگامی حالات میں کان کنوں کو ریسکیوکی خدمات فراہم کی جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ صوبے کے 34 اضلاع میں DHIS ٹوکو مکمل کیا گیا ہے۔

پی پی ایچ آئی بلوچستان نے شفافیت اور مریضوں کا ریکارڈ محفوظ کرنے کیلئے ڈیجیٹل ایپ بھی متعارف کرایاہے۔

اس کے علاوہ، پی پی ایچ آئی بلوچستان یواین ایف پی اے، گیٹس فائونڈیشن، یواین ایچ سی آرودیگرشراکت داروں کے تعاون سے ایم سی ایچ سروسزاورموبلائزیشن کے منصوبوں پرکام کررہی ہے۔

اس موقع پر سیکرٹری صحت دائود خان خلجی نے کہا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان کومانیٹرنگ سسٹم کو مرکزی طور پر فعال کرنے پر مزیدکام کرنے کی ضرورت ہے۔ محکمہ صحت حکومت بلوچستان مانیٹرنگ آفیسران کی استعداد بڑھانے کے لیے انہیںتربیت فراہم کرے گی۔ اورمحکمہ خزانہ حکومت بلوچستان کی معاونت سے پی پی ایچ آئی کوٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرکے معاملات کو بہتربنائیں گے۔

انہوں نے بتایاکہ صوبائی وزیر صحت کے احکامات کی روشنی میں 27 نومبر 2025کو آٹومیشن اور اسٹرینتننگ کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا تاکہ مزید امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے پی پی ایچ آئی بلوچستان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایم سی ایچ، ایم این سی ایچ اور نیوٹریشن ماں اور بچے کی صحت سے منسلک ہیں، اور پرائمری ہیلتھ کیئر ہماری اولین ترجیح ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ وقت میں حقیقی مانیٹرنگ کا کوئی نظام نہیں ہے۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے پرائمری ہیلتھ کیئر کا نظام مؤثر طریقے سے کام نہیں کر رہا،

جس کی وجہ سے لوگ زکام اورکھانسی جیسے معمولی بیماریوں کے لیے ٹرشری ہسپتالوں کارخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں پرمریضوں کارش بڑھ جاتاہے، یہ امرضروری ہے

کہ ہم بنیادی مراکزصحت میں طریقہ کارکوبہتربناکرعوام کو شعوروآگاہی دے کران کااعتمادبحال کریں۔صوبائی وزیرصحت نے پی پی ایچ آئی بلوچستان کی خدمات کوسراہااور کہا کہ حکومت بلوچستان طب کے شعبے میں بہترخدمات اورشفافیت کوبرقراررکھنے کیلئے بھرپورمعاونت کرے گی۔