کوئٹہ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اگر ہم صوبے میں اپنی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو پنجاب اور سندھ کی یونیورسٹیوں کے برابر لانے کیلئے تمام ضروری سہولیات فراہم کر رہے ہیں تو پھر ہم صوبے کی ہر یونیورسٹی سے اعلیٰ رینکینگ اینڈ سکورنگ کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
مطلوبہ مقاصد کے حصول کیلئے ہم نے تمام متعلقہ وائس چانسلرز کو پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ معیار قائم کرنے، تدریسی طریقہ کار میں جدت لانے، تحقیقی پیداوار کو بہتر بنانے اور مجموعی کارکردگی کو مزید بڑھانے کیلئے جوابدہ ٹھہرائیں ہیں۔
قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ ان کی ٹیم کی کارکردگی لائق تحسین ہے تاہم بعض شعبوں میں مزید کاوشوں کی اشد ضرورت ہے.
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف مکران، پنجگور کے دوسرے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا.
اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس اقبال کاسی، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان کلیم اللہ بابر، وائس قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا نمائندہ پروفیسر ڈاکٹر ظہور بازئی، پرو-وائس چانسلر ڈاکٹر سعادت بلوچ اور رجسٹرار آفتاب اسلم سمیت سینیٹ کے تمام ممبران شریک تھے.
اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ نے تمام سرکاری یونیورسٹیوں کی کارکردگی میں واضح برتری اچکی ہے اور بھرپور جدوجہد اور مناسب توجہ سے ان کے تعلیمی، تدریسی، انتظامی اور مالی معاملات میں نئی سمتیں متعین ہوئیں. یونیورسٹی کے تمام اساتذہ دراصل ملک اور صوبے کے اثاثے ہیں لہٰذا ان کے پروموشنز کا خصوصی خیال رکھیں.
گورنر مندوخیل نے کہا کہ مکران اور تربت کے طلباء اور طالبات تعلیم حاصل کرنے کا زیادہ ذوق اور شوق رکھتے ہیں. آپ کی ذمہ داری ہے کہ ان نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور جدید مہارت سکھا دیں اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا کریں
تاکہ ہم ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے بروئے کار لائیں.
گورنر مندوخیل نے کہا کہ گوڈ گورننس کے حوالے سے بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں سینیٹ اور سنڈیکیٹ کے اجلاسوں کے مقررہ وقت پر انعقاد ہماری بڑی کامیابی ہے۔ یونیورسٹی آف مکران، پنجگور کے دوسرے سینیٹ اجلاس میں شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں.