وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام اتحادی جماعتوں کی اعلیٰ صوبائی قیادت اور اراکینِ اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی، اسپیکر عبدالخالق اچکزئی اور ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
پاکستان مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ اور پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سردار عمر گورگیج بھی اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوابزادہ طارق مگسی، میر صادق سنجرانی اور اے این پی کے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال، امن و امان اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اتحادی قیادت نے صوبائی حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی استحکام کے لیے مل کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور مزید بہتری کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
شرکاء نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور گڈ گورننس کے قیام کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں ترقیاتی و فلاحی اقدامات کو عوامی ضروریات کے مطابق ڈھال کر ان کے ثمرات عام شہری تک پہنچانے کے لیے قابلِ عمل پلان تشکیل دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیاسی ہم آہنگی اور مضبوط پارلیمانی رابطے صوبے کے مستقبل کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اتحادی صوبے کی ترقی اور امن کے لیے یکجا ہیں اور ان کی تجاویز خوش آئند ہیں، جبکہ مشترکہ وژن ہی ہماری اصل قوت ہے۔
گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے اس موقع پر کہا کہ صوبے میں امن اور ترقی کے ایجنڈے پر یکجہتی خوشگوار سیاسی ماحول کی عکاسی ہے۔