کوئٹہ : سوسائٹی فار امپاورنگ ہیومن ریسورس (سحر)کے زیرِ اہتمام، یو این ایف پی اے اور محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان حکومت بلوچستان کے تعاون سے بلوچستان یوتھ پالیسی کے مثر نفاذ، پلاننگ اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن فریم ورک پر اہم کنسلٹیشن سیشن منعقد ہوا۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی مینا مجید بلوچ، ایڈوائزر وزیراعلی بلوچستان برائے اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز تھیں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک نہایت اہم شعبے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں اور وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق محکمہ یوتھ کو شفافیت، میرٹ اور جدید تقاضوں کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا:”محکمے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، مگر میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں نہ خوفزدہ ہوں اور نہ مایوس۔
میں بلوچستان کے نوجوانوں کے حقوق کی جدوجہد کر رہی ہوں اور ان کا حق ہر صورت دلائوں گی۔”تقریب کی نظامت عبدالستار، پروگرام مینیجر سحر نے انجام دی، جنہوں نے مہمانوں کا تعارف اور پروگرام کے مقاصد نہایت خوبصورتی سے پیش کیے اور سیشن کو منظم و موثر انداز میں آگے بڑھایا۔یو این ایف پی اے بلوچستان کی سربراہ سعادیہ عطا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کسی صورت نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔”یہ پالیسی ہمارے نوجوانوں کے لیے سمت متعین کرے گی۔ جہاں وہ بے رخ تھے، وہاں اب انہیں مثبت راستہ ملا ہے،
اور ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کے مطابق مقام حاصل کریں۔”انہوں نے کہا کہ یو این ایف پی اے حکومت بلوچستان اور سول سوسائٹی کے ساتھ شانہ بشانہ کام جاری رکھے گا۔سحر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبدالودود خان نے شریک مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور خطاب میں کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا ان کے ادارے کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے یو این ایف پی اے اور محکمہ اسپورٹس اینڈ یوتھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ:”یوتھ کو سنجیدہ لینا خوش آئند ہے اور ہم مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
“ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز، ڈاکٹر یاسر بازئی نے اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم نوجوانوں کے لیے ہر قدم پر حاضر ہے۔
سیکرٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز، محترم درہ بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ:”یوتھ پالیسی ایک احسن قدم ہے۔
جب تک کسی مسئلے پر پالیسی نہیں بنتی، سمت واضح نہیں ہوتی۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس پالیسی کو کامیاب بنائیں۔ مزید یہ کہ اسپورٹس پالیسی کی بھی فوری ریویژن کی ضرورت ہے، جس میں سحر اور یو این ایف پی اے سے مدد درکار ہوگی تاکہ ہماری خواتین اور بچیوں کو کھیلوں میں درپیش رکاوٹیں دور کی جاسکیں۔
“پروگرام کا تکنیکی حصہ کنسلٹنٹ جمال مصطفی سورو نے پیش کیا، جس میں انہوں نے یوتھ پالیسی کے ممکنہ نفاذ، عملدرآمد پلان اور M&E فریم ورک پر تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکا کو پانچ گروپس میں تقسیم کر کے تھیمیٹک ایریاز پر گروپ ورک بھی کروایا گیا۔
مشاورت کے دوران یو این ویمن بلوچستان کے نمائندے داود خان نے سفارش کی کہ اس پالیسی اور پلان کو SDGs کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔صحافی میر بہرام بلوچ نے تجویز پیش کی کہ”پالیسی بن گئی ہے، اب اس کا قانون بھی بنایا جائے اور IEC مٹیریل کو علاقائی زبانوں میں تیار کیا جائے۔
“پروگرام کے اختتام پر نوراللہ خان، ہیڈ آف پروگرامز سحر نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بہت جلد بلوچستان یوتھ پالیسی پر عملدرآمد ہوتا ہوا نظر آئے گا۔