|

وقتِ اشاعت :   December 3 – 2025

کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ پوست کی کاشت ایک سنگین جرم ہے جو پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے ہیں، اس کی روک تھام کے لیے مزید جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔

حکومت صوبے میں پوست کی کاشت کو تلف کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔

صوبائی حکومت نے 3700 ایکڑ سے زائد رقبے پر پوست کی فصلیں تلف کیں جو گزشتہ سال سے کہیں زیادہ ہے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبے میں پوست کی کاشت کی روک تھام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، اور انسداد منشیات فورس کو مزید سخت اور مربوط اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ پوست کی کاشت کی روک تھام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن نہایت ضروری ہے، تاکہ مو?ثر کارروائیاں کی جا سکیں اور کاشت کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ، سیکیورٹی ادارے، اور سماجی تنظیمیں بھی تعاون کرے تاکہ اس مسئلے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ ضلعی کوآرڈینیشن کمیٹیاں بھی ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کرے تاکہ انسداد پوست کی مختلف محکموں کے اقدامات کا باہمی جائزہ اور بہتر توازن ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں پوست کے بیج کی نقل و حمل، خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جن اضلاع میں پوست کی کاشت ہورہی ہے ان علاقوں علاقوں میں پوست کی فصل کی نشاندھی کر کے انکو فوری تلف کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

انھوں نے ہدایت کی کہ عوام پوست کی فصل کاشت کرنے سے اجتناب کریں جن زمینوں پر پوست کاشت کی گء ہے انکے مالکان کے خلاف بھی بہت جلد کارواء کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حکومتی ادارے اور اے این ایف منشیات کے خاتمے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں پوست کی کاشت کو روکنے اور تلف کرنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر پہاڑی اور دور دراز علاقوں جیسے واشک، چاغی، قلعہ عبداللہ، دکی وغیرہ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جو بھی زمیندار پوست کی کاشت میں ملوث پایا جائے تو ان کو فورتھ شیڈول میں ڈالا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 225 زمینداروں کو فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا ہے۔