|

وقتِ اشاعت :   December 3 – 2025

کوئٹہ :  ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان زاہد سلیم نے کہا ہے کہ صوبہ ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہے اور حکومت کی اولین ترجیح سڑکوں اور مواصلات کے نظام کو بہتر بنانا ہے تاکہ عوام کو تعلیم، صحت، صاف پانی اور معاشی سرگرمیوں تک بہتر رسائی مل سکے۔

صوبائی حکومت نے ترقیاتی بجٹ کو بڑھایا ہے جس کو عوام کو سہولیات کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان تاریخی طور پر ترقیاتی عمل میں پیچھے رہا ہے جس کی بنیادی وجہ ناکافی مالی وسائل ہیں۔ان کے مطابق پنجاب میں ایک کلومیٹر سڑک کے لیے اوسط 42 لاکھ روپے، سندھ میں 35 لاکھ اور خیبرپختونخوا میں 47 لاکھ روپے دستیاب ہیں

جبکہ بلوچستان کو صرف 7 لاکھ روپے ملتے ہیںپاکستان کے آدھے رقبے پر محیط صوبے میں ترقی میں مشکلات درپیش آرہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ 44 فیصد رقبے والے صوبے کو اتنی کم فنڈنگ ملنے سے ترقیاتی خلا بڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو باقی صوبوں ، اضلاع اور دیہاتوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے سڑکوں کو بہتر بنانے پر خصوصی کام جاری ہے۔

اور صوبے میں سی پیک، ساحلی پٹی اور قیمتی معدنی ذخائر کو بلوچستان کے تین بڑے گیم چینجر شعبے قرار دیاہے۔

گوادر سی پیک کا مرکز ہے جہاں جاری منصوبے صوبے کی معاشی سمت بدل سکتے ہیں جبکہ پاکستان کی ساحلی پٹی کا 75 بلوچستان میں ہے ساحلی علاقوں میں نئے سیاحتی اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔

بلوچستان کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو خطیر رقم فراہم کی گئی ہے اور پانچ بڑے سیاحتی منصوبے مکمل ہونے کے قریب ہیں جبکہ ہنگلاج ماتا سمیت مذہبی سیاحت کی جگہوں تک رسائی بہتر بنانے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

انہوںنے کہاکہ کان کنی کے شعبے میں خصوصاً چاغی میں نئے منصوبوں کو معاشی طور پر انتہائی اہم قرار دیا۔

بجلی سے محروم دور دراز علاقوں میں بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبے شروع کیے جارہے ہیں جن سے ٹیوب ویلز کی لاگت کم ہوگی اور دیہی آبادی کو بجلی با آسانی فراہم کی جائے گی۔انہوںنے بتایا کہ بلوچستان میں سالانہ 12 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہوجاتا ہے ۔

پانی کے ذخائر میں اضافے کے لیے صوبائی پی ایس ڈی پی میں 25 نئے ڈیم شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تربت، سبی، وندر اور بسول میں وفاق کے تعاون سے بڑے ڈیموں پر کام جاری ہے جبکہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے شمالی بلوچستان میں بھی ڈیم منصوبے بن رہے ہیں۔

صوبائی حکومت نے ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 295 ارب روپے کردیا ہے۔ گزشتہ سال 3 ہزار 60 منصوبے مکمل کیے گئے جبکہ رواں سال 3 ہزار 500 منصوبوں کی تکمیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر صوبے میں 6 ہزار 500 سے زائد منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی مانیٹرنگ کے لیے محکمہ منصوبہ بندی کا مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن وِنگ کو فعال بنایا گیا ہے ۔ یہ ونگ سالانہ 4ہزار سے زائد منصوبوں کا جائزہ لے رہا ہے۔بلوچستان ترقی کے ایک نئے سفر پر گامزن ہے اور حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ منصوبے بروقت اور معیاری بنیادوں پر مکمل کیے جائیںتاکہ ان کے ثمرات عوام تک منتقل ہوسکے اور وہ ان سے مستفید ہوں۔