|

وقتِ اشاعت :   December 4 – 2025

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں ریاست نے قہر برپا کردینے والی جبر و استبداد کا وحشیانہ سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا ہوا ہے،

کوئی فرد ایسا نہیں جو ریاستی ظلم و زوراکیوں سے متاثر نہ ہوا ہو، بچے،

بوڑھے، عورتیں، طلبہ، سیاسی کارکنان، وکلاء اور اساتذہ سمیت تمام مکاتب فکر سے جڑے ساتھی براہ راست ریاستی بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بالاچ بالی جامعہ تربت کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں درس وتدریس جیسے مقدم پیشے سے وابستہ ہیں اور طلبہ کی رہنمائی میں اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں

کو 3 دسمبر دوپہر کو سکیورٹی فورسز نے ماورائے قانون جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے تاحال ان کا کوئی پتہ معلوم نہیں۔

بالاچ بالی جیسے روشن خیال اساتذہ کی جبری گمشدگی روشن فکر مستقبل کی آبیاری پر حملہ تصور کرتے ہیں۔

بالاچ بالی نہ صرف اپنی ہی شعبے میں ایک گران قدر استاد کے طور پر جانے جاتے ہیں بلکہ بلوچ زبان و ادب کے فروغ میں بھی ان کا نمایاں کردار ہے۔

ان کی علمی و ادبی خدمات بلوچستان میں زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک مشعل راہ کے طور پر تسلیم کی جاتی ہیں، اور ان کی غیر موجودگی میں طلبہ کا شدید تحفظات ہیں۔

بی ایس او بالاچ بالی کی جبری گمشدگی کی بھرپور مذمت کرتی ہے نیز بالاچ بالی سمیت تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتی ہے۔