کوئٹہ : صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سوئی گیس کمپنی کے رات 12 بجے تک گیس کی فراہمی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے
شدید سردی میں کوئٹہ مختلف علاقوں میں رات ساڑھے 10 بجے کے بعد گیس پریشر میں کمی اور بندش روز کا معمول بن چکا ہے شہری شدید مشکلات سے دو چار ہیں۔
حکومت اور ارباب اختیار کی جانب سے گیس کی بندش کا نوٹس نہیں لیا گیا اور نہ ہی کمپنی کو شدید سردی میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پابند بنایا گیا ہے
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ اور صوبے کے سرد علاقوں میں گیس کی بلا تعطل فراہمی ممکن نہیں بنائی جارہی جس کی وجہ سے بزرگ شہریوں ، بچوں اور خواتین کو سردی سے بچنے اور خواتین کو امور خانہ داری میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے شہری ایل پی جی گیس خرید کر سردی سے بچنے اور کھانا بنانے پر مجبور ہیں بڑھتی ہوئی
مہنگائی گیس سمیت انٹر نیٹ کی بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت فوری طور پر اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی کو رات 12 بجے تک بلا تعطل پریشر کے ساتھ گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ لوگوں کو اس سے چھٹکارا مل سکے۔
کیونکہ کوئٹہ اور شمالی علاقوں میں شدید سردی ہے اور درجہ حرارت منفی 5 سے 6 سینیٹ گریڈ تک گر چکا ہے ان حالات میں شہریوں کو گیس اپنی زندگی بچانے کیلئے چاہئے۔