کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے ابتدائی اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا ہے کہ صوبے کو امن و امان کی ابتر صورتحال کے پیش نظر ریونیو اور ٹیکس کلیکشن میں دشواری کا سامنا ہے ۔
جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے این ایف سی ایوارڈ کے ابتدائی اجلاس میں وزیرخزانہ بلوچستان میر شعیب نوشروانی اور ٹیکنیکل ممبر محفوظ علی خان نے شرکت کی ۔
اجلاس میں بلوچستان حکومت کی ٹیم نے شرکاء کوگزشتہ15 سال کے صوبے کے مالی حالات ،مسائل ،اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ بلوچستان کو اس وقت امن و امان کی ابتر صوتحال کا سامنا ہے 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے وقت صوبے میں امن و امان پر 5ارب روپے خرچ کیے جاتے تھے جو اب 100ارب روپے سے بھی تجاوز کرچکے ہیں ۔
بلوچستان حکومت کے وفد نے شرکاء کو آگا ہ کیا کہ بلوچستان میں امن وامان کی ابتر صوتحال کے باعث ریونیو اور رٹیکس کلیکشن میں مشکلات درپیش ہیں صوبے میں امن و امان پر خطیر رقم خرچ ہونے کے باعث سماجی شعبے اور فلاح و بہبود کے لیے قلیل رقم بچتی ہے ۔
شرکاء کو آگاہ کیا گیا ہے کہ دہشتگردی کے تمام عناصر بلوچستان میں واضح ہیں جس کی وجہ سے صوبہ مشکلات کا شکار ہے ۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ جنوری تک ورکنگ کروپس قائم کر کے باقاعدہ اجلاسوں کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ مزید فیصلے کیے جاسکیں ۔