لاہور: وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس مجبوری کے عالم میں تھی ،جب مسلح افواج دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دے رہی ہے،
کوئی فتنہ خوارج یا بھارتی میڈیا کی آواز بن کر قومی اداروں یا ریاست کو نشانہ بنائے گا تو اگر ڈی جی آئی ایس پی آر اس سے بھی زیادہ شدت سے بولتے تو حق بجانب تھے، اگر ریاست ہوگی تو سیاست ہوگی ، سیاست جدا جدا مگر ہم سب کا ڈاک خانہ پاکستان ہے ، ریاست کے مفاد پر سیاست نہیں کرسکتے، اگر معرکہ ترقی کو جیتنا ہے اس کے لئے لئے فوج جیسے جذبہ کا عکس نظر آنا چاہیے ۔
ان خیالات کا اظہارا نہوں نے ایکسپو سنٹر میں آئی پیکس سے خطاب اورمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
احسن اقبال نے کہا کہ کیا اپنے خاندان کے جھگڑے کے چوکوں و چوراہوں میں اشتہار لگائے جاتے ہیں؟، کبھی امریکہ تو کبھی برطانیہ میں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتاہے، اگر کوئی مسلح افواج کے ساتھ ہرزہ سرائی کرے گا تو سختی سے نمٹا جائے گا،
احسن اقبال ہم سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں ،خیبر پختوانخواہ کے وزیر اعلی کو وزیر اعظم نے مبارکباد دی، اگر آپ اپنا فرض چھوڑ کر راولپنڈی میں بیٹھ جائیں گے اور خیبر پختوانخواہ دہشتگردوں کے حوالے کر دیں گے تو کیا یہ درست ہے؟، صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح امن و امان ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختوانخواہ حکومت آئینی کردار ادا نہیں کرتی ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرتی ہے تو پھر آئین اجازت دیتا ہے امن و امان کی خرابی پر گورنر راج لگایا جا سکتا ہے
لیکن ابھی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے تقریب سے خطاب میں کہاکہ آئی پیکس کا انعقاد پاکستان کیلئے بہت اہم ہے،فن تعمیر وہ شعبہ ہے جو کسی گھر،بستی، شہر کو شناخت دیتا ہے، پاکستان کے پاس زرخیز ورثہ ہے ،ہماری تاریخ میں ہماری شناخت ہے، ہم جدید فن تعمیر کے ساتھ ساتھ اپنے ورثہ کو بھی ترقی دیں تاکہ دنیا میں شناخت واضح ہو سکے۔
انہوںنے کہاکہ ہم درآمد کرنے میں چمپئن لیکن برآمد کرنے میں کمزور ہیں، جس طرح ہم نے قومی مشن سمجھ کر خود کو ایٹمی طاقت بنایا اب برآمدات میں ناقابل تسخیر بننا ہے، گرین تعمیرات نہیں ہوں گی تو پھر موسمیاتی تبدیلی سے لوگوں کو تحفظ نہیں دے سکیں گے،تمام کمپنیاں اپنے لوکل برینڈز کو بین الاقوامی منڈیوں میں شناخت دلوائیں،
اگر برآمدات بڑھانے میں مشکل ہے تو ہم آپ ہی مدد کریں گے، لیکن اب وہ زمانہ چلا گیا جب حکومت معیشت کا پہیہ چلاتی تھی، معیشت کو پرائیویٹ سیکٹر نے بڑھانا اور پھیلانا ہے،
سرخ فیتہ راج ختم کر رہے ہیں، پرائیویٹ سیکٹر کے راستے سے روڑے ہٹا رہے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ افراط زر دو سال میں38 سے کم ہوکر ساڑھے چار فیصد تک آئی،جب اقتدار میں آئے تو گرتی معیشت کو سانس دینے کیلئے آئی ایم ایف کا سہارا لینا پڑا، دس مئی کو دوبارہ ثابت کیا کوئی ہمیں جھکا نہیں سکتا، مسلح افواج بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے ،
کوئی قوم دفاع مضبوط معیشت کے بغیر نہیں کر سکتی، دہشت گردی کے خلاف کس جذبہ سے مائیں بیٹے قربان کررہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے حلقہ کے نوجوان نے چھ ماہ کی ڈیوٹی کے بعد گھر فون کیا لیکن واپسی پر اسے دہشتگردوں نے شہید کردیا، شہید ماں نے مجھے کہا مجھ سے افسوس نہ کریں بلکہ مبارک دیں ،کیا ان مائوں کے دلوں میں لوہے کے دل ہیں،
پاکستان کا دفاع اس لئے مضبوط ہے کہ وہ جوان ہیں جن کی شادی ہوتی ہے ہنی مون کے بجائے شہید ہونے جاتے ہیں، معرکہ حق میں کامیابی سچے جذبوں سے حاصل کی ہے، اگر معرکہ ترقی کو جیتنا ہے اس کے لئے لئے فوج جیسے جذبہ کا عکس نظر آنا چاہیے ،قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے کر کامیابی ملے گی،
مضبوط معیشت سے ہی غربت کے خاتمے، روزگار اور دفاع کیلئے وسائل فراہم ہوں گے ، ون ٹریلین ڈالر اکانومی 2035 تک بننا ہے ،اگر ملک میں امن نہیں ہوگا تو معیشت ترقی نہیں کرے گی، سیاسی لانگ مارچیں بہت ہو گئیں اب اقتصادی لانگ مارچ کی ضرورت ہے۔