|

وقتِ اشاعت :   December 8 – 2025

کوئٹہ ؛ نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے یک رکنی جماعت کے خودساختہ سربراہ اسداللہ سدوزئی کے الزامات کو گمراہ کن اور سیاسی بدحواسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یکتا پارٹی کا اکلوتا رہبر ذاتی مفادات کے لیئے ایک پہیہ والے ساہیکل پہ سوار ہے

یہ وہ شخص جو ہمیشہ ذاتی مفادات کیلئے سیاسی جماعتوں کو توڑتا رہا ہے اور آخری باری وزارت کے حصول و سینٹ کا ووٹ فروخت کرنے کے لیئے اپنے تانگہ پارٹی کو بھی توڑ کر یکتا پارٹی بنایا جو دو گلیوں تک محدود ہے جب بھی اسے وزارت نہیں ملی پارٹی توڑا ، 1997 میں اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لیئے بزرگ سیاسی رہنما سردار عطا اللہ مینگل کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرکے جان جمالی کی حکومت میں وزارت لی ، مشرف دور حکومت میں نیب کے خوف سے ٹرک میں ایران بھاگ گیا پھر ڈکٹیٹر سے سازباز کرکے واپس آئے ، 2008 سے 2013تک ایسے دور میں وزیر رہا جب عید کے دن بلوچ نوجوانوں کے چار چار لاشیں گرتیں

2018کے بدنام زمانہ قدوسی سرکار میں جب ریکوڈک کا سودا ہوا موصوف وزارت کے مسند پہ تھا جو شخص ایک سیٹ کی خاطر اپنی پوری پارٹی کو چوراہے

میں بیچ ڈالا ہو،جس نے سینٹ ووٹ بیچا وہ آج سیاسی اصولوں اور عوامی مفاد کی بات کر کے صرف درامہ بازی کررہا ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ مذکورہ شخص نے مفاد پرستی کی ہر حد پار کی، کبھی حکومتوں کی ناز برداری کی، کبھی اقتدار کیلئے اصولوں کا سودا کیا، کبھی وزارت کیلئے پارٹی بدلی اور کبھی ایک سیٹ کیلئے پارٹی توڑ دی۔

ترجمان نے کہا کہ موصوف انتہائی بدعنوان انسان ہیں جس نے وشبود بائی پاس سے خدابادان اور ایئرپورٹ روڈ سے لے کر گرمکان کراس تک 1500 کے قریب جعلی دکانیں ڈال کر روڈ کٹنگ کے نام پر سرکار سے اربوں روپے کمپلسیشن لیا

اس قسم کے بدعنوان انسان کو کوئی حق نہیں کہ نیشنل پارٹی جیسے قومی جماعت پہ انگلی اٹھائے، پچھلے دورِ حکومت میں جو لوٹ مار اور مالی بے ضابطگیاں ہوئیں، ان کے سب سے بڑے ذمہ دار وہی ہیں جو آج دوسروں پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔

اس دور کے ترقیاتی فنڈز، ٹھیکے، کاغذی منصوبے، غیرقانونی الاٹمنٹس اور دفتر سے باہر بیٹھ کر فائلوں پر دستخط کرانے کی داستانیں آج بھی ہر محکمے کے اہلکاروں کو یاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاست میں کرپشن کی کئی مثالیں موجود ہیں مگر مذکورہ شخص کا کردار خود ایک الگ باب ہے، جسے عوام کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ترجمان نے کہا کہ صورتحال یہاں تک گئی کہ زمینوں، سرکاری رقبوں اور سرکاری منصوبوں کی بندربانٹ کے ساتھ ساتھ ’’قبروں تک کو فروخت کرنے‘‘ جیسے انتہائی افسوسناک واقعات ان دور میں سامنے آئے، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ذاتی مفاد، مالی فائدے اور وزارت کے حصول کیلئے کس حد تک گیا۔ آج وہی شخص اخلاقیات کا پرچار کر رہا ہے،

جو عوامی وسائل، سرکاری اراضی اور ترقیاتی فنڈز کو ذاتی جاگیر سمجھ کر ہڑپ کرتا رہا،انہوں نے منظر عام پر منشیات سے متعلق سامنے آنے والی ترجمان نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کو عوامی روزگار کا ذریعہ بنانے کے بجائے ایک زمباد مافیا کے مفاد میں استعمال کیا گیا، اور 22سو ٹوکن فی ٹوکن 6 لاکھ کے حساب سے فروخت کیاگیاجس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان بیروزگار ہوئے آج انہی فیصلوں کے نتائج عوام بھگت رہے ہیں

اور وہی شخص خود کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو سب سے پہلے پارٹی کے قائد ڈاکٹر مالک بلوچ نے پوائنٹ آؤٹ کیا اور اسمبلی میں آواز اٹھائی اور ان کے مطالبے پر اسمبلی میں لایا گیا لیکن نینشل پارٹی نے ووٹ پھر بھی نہیں کیا انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی پر تنقید محض سیاسی ڈرامہ ہے جو صرف آقاؤں کی خوشنودی کے لیئے ہے کیونکہ ہمیشہ سے یہی لوگ اصل حکمرانوں کے آگے سر جھکاتے رہے ہیں اور ہر دور میں بلوچستان کے وسائل پر سمجھوتے کرتے آئے ہیں۔

صوبائی خودمختاری کے نام پر تقریریں وہی کر رہے ہیں جو اقتدار کی خاطر ہر دروازے پر دستک دیتے رہے ہیں،ترجمان نے کہا کہ نیشنل پارٹی ہردور میں زیر عتاب رہی ،رکن اسمبلی کو دو ارب کے فنڈز کے الزامات انتہائی مضحکہ خیز ہیں شاید اقتدار کی دوری کی وجہ سے اس شخص کی ذہنی حالت متاثر ہوچکی ہے اس لیے اس کا ریکارڈ پی ایس ڈی پی یا اسمبلی ریکارڈ سے معلوم کیا جائے کہ کس کو کتنے فنڈز ملے۔

ترجمان نے کہا کہ پنجگور کی موجودہ تباہ حالی، پانی بحران، مالی بدعنوانی، سڑکوں کی خستہ حالی، ادھورے منصوبوں اور عوامی محرومی کی اصل ذمہ داری اسی شخص پر عائد ہوتی ہے جس نے سیاسی جماعتوں کو توڑ کر، سرکاری وسائل لوٹ کر، عوامی منصوبے ادھورے چھوڑ کر اور کرسی کیلئے کسی بھی حد تک جا کر پنجگور کو پسماندگی کی دلدل میں دھکیلا۔ عوام ان جھوٹے بیانیوں، جعلی دعوؤں اور مصنوعی ترقی کے نعرے لگانے والوں کو اچھی طرح پہچانتے ہیں اور اب وہ مزید دھوکے میں نہیں آئیں گے۔