کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی پریس ریلیز میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے مناسبت سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں پچھلے دو دہائیوں سے زیاد عرصہ گزرنے کے باوجود حکمران چاہے وہ سول ہو یا آمر انہوں نے کسی بھی طرح بلوچستان کے مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا
انہی وجوہات کے بنا پر بلوچستان میں انسانی حقوق کے مسائل بڑھتے جا رہے
اب تو عالم یہ ہے کہ ماہ رنگ بلوچ سمیت خواتین سیاسی ورکر محفوظ نہیں رہے
اب وہ زندان میں جھوٹے من گھڑت مقدمات میں ذہنی کوفت اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں بلوچستان کے ہزاروں بلوچ نوجوانوں کو 4 شیڈول میں شامل کر کے ان کو زہنی اذیتیں دی
تاکہ علم و اگئی شعور کے دروازے ان پربند ہوں فارم 47 کے دور حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مرضی پر دانش گائیں
تعلیمی ادارے بڑا عرصہ بند رہیں ہزاروں نوجوانوں کو دانستہ طور پر علم کے زیور سے محروم رکھا گیا محاورہ قانون محاورہ عدالت قتل و غارت گری اور گرفتاریاں جیسے اقدامات میں بڑی تعداد میں اضافہ ہوا
موجودہ دور حکومت فارم 47 کے حکمران اسی پالیسی پر اج تک گامزن ہیں اور دو دائیوں سے بلوچستان کے مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی خواہشمند ہیں اور بے دردی کے ساتھ انسانی حقوق کے پامالی ہو بلوچ اور بلوچستانی عوام کی چادر چار دیواری کی تقدس پامال ہونا
اس سے کوئی سروکار نہیں اپنے ناکام حکومت کو طول دینا مقصود ہے بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جنہوں نے ابتدائی دنوں سے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں لاپتہ افراد کی بازیابی آپریشن انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف مشرف دور سے لے کر اب تک آواز بلند کی اور بلوچستان کیاحساس معاملات پر کبھی پیچھے نہیں ہٹے
اور نہ ہی کسی قربانی سے دریغ کیا اور بی این پی کی قیادت سردار اختر جان مینگل اپنے ساتھیوں سمیت لانگ مارچ طویل دھرنا دینا مارنگ بلوچ اور خواتین کی ریائی کی خاطر اسی پاداش میں پارٹی پہ دو خودکش عملے ہوئے اور اس تحریک میں پارٹی کے 18 دوستوں کی شہادت ہوئی
پارٹی قیادت پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے پارٹی قائد پر سفری پابندی ہائد کی گئی
اور معروف انسانی حقوق کی علمبردار ایمان مزاری بلوچ ایڈوکیٹ اور ہادی چٹھ ایڈوکیٹ کے خلاف جھوٹے مقدمات اور انہیں ذہنی کوفت اور اراسں کرنا انہیں اسی لیے انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے بلوچستان کی جبری گمشدگی کے حوالے سے آواز بلند کی موجودہ دور میں بلوچستان میں عملی طور پر آمریت کا دور دورہ ہے
سیاسی جمہوری جلسے جلوس مظاہرے پریس کانفرنس کرنے پر مکمل پابندی ہے حکمران اور بلوچستان میں حکمران اور اصل اختیار دار معاملات کو مزید بورانی کیفیت کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں
اور بلوچستان کے معاملات کو سیاسی طور پہ حل کرنے سے گریزہ ہیں اسی لیے انسانی حقوق پامالی کا دور دورہ ہے