کوئٹہ؛ ہر سال 10 دسمبر کو عالمی یومِ انسانی حقوق کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ ان تمام مسائل اور زیادتیوں کو اجاگر کیا جا سکے جہاں کسی بھی فرد کو حقوق کی خلاف ورزی اور کسی بھی طرح کے جبر کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
یہ دن صرف ان بنیادی حقوق کی پامالی کو یاد کرنے کا نہیں ہے، بلکہ ان حقوق کو برقرار رکھنے اور ان کے تحفظ کا عزم کرنے کا دن ہے۔
ہر سال، لاتعداد افراد حقوق کی پامالی اور سیاسی جبر جیسے سنگین مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔اس دن، بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، بلوچستان کی جامعات سے مرتب کردہ یہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے مسرت محسوس کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسی رپورٹ ہے جو یہ ثبوت پیش کرے جہاں بلوچ طلباء کو روزانہ کی بنیاد پر اپنے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں، تعلیمی جبر اور تدریسی عدم مساوات کا سامنا ہے۔
بلوچستان میں مختلف قسم کی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، انسانی حقوق کی دیگر تمام خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی حقوق کی پامالی بھی ایک معمول بن چکی ہے۔
یہ رپورٹ گزشتہ تعلیمی سال کے دوران مرتب کیے گئے حقیقی واقعات، حقائق اور اعداد و شمار پر مبنی ہے، جو جامعات میں حقوق کی خلاف ورزیوں کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔
بلوچستان کے جامعات میں طلباء کو ہراسمنٹ، پروفائلنگ اور دیگر کئی طرح کے جبر کا سامنا ہے۔
ان مسائل میں استاد کی شدید کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان، لیبارٹری سمیت لیب ورک اور لیب ایکوئپمنٹ کی عدم دستیابی، صحت مند تعلیمی ماحول سے محرومی، اور طلباء کو بلاوجہ معطل اور یونیورسٹی سے خارج کرنا شامل ہے۔
ان تمام تر اداراہ جاتی جبر کی بنیاد پر تنظیم کا مطالبہ ہے کہ تمام بین الاقوامی ادارے بلوچ عوام کے خلاف مجموعی طور پر، اور بالخصوص طلباء کے خلاف ہونے والی ان خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں۔مکمل رپورٹ کے لیے نیچے دی گئی ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں۔
پی ڈی ایف رپورٹ ویب سائٹ پر منسلک ہے۔