کوئٹہ: سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ قومی وطن بلوچستان میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالی ہورہی ہے،
لوگوں کے اجتماعی و انفرادی ووٹ کے حق کو جعلی جمہوریت کے تحت سلب کیا گیا، افراتفری ، جبر و ناانصافیوں سے نکلنے کیلئے اس سرزمین کے لوگ ایک قومی ایجنڈے کے نکات کا تعین کریں۔
یہ بات انہوںنے انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ مزاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ کے جینوا کنونشن کے تحت انسانی حقوق کے تحفظ کے چارٹر کا اعلان ہوا
اور ملکی آئین کے ابتدائی نکات میں بھی انسانی حقوق کو تحفظ حاصل ہے مگر افسوس ہمارے قومی وطن بلوچستان میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالی ہورہی ہے ،یہاں عوام کے جان ومال کے تحفظ کی بجائے گمنام قبرستانوں کی ایک بہت بڑی داستان ہے ،
لوگ آج بھی لاپتہ ہیں،صوبے کے لوگوں کے اجتماعی و انفرادی ووٹ کے حق کو بھی جعلی جمہوریت کے تحت سلب کیا گیا ہے ، مایوسی کا عالم یہ ہے
کہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھی اپنے اپنے ملکی مفادات کی پالیسی کے تحت غیر انسانی و غیر قانونی جبر پر خاموش ہیںاور جن اداروں کی ذمہ داری لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے وہاں بھی افراد نے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی ہے،
انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہاکہ بلوچستان میں ایک پالیسی کے تحت افراتفری پیدا کی گئی ہے اس افراتفری ، جبر و ناانصافیوں سے نکلنے کیلئے اس سرزمین کے لوگ ایک قومی ایجنڈے کے نکات کا تعین کریں۔