|

وقتِ اشاعت :   December 13 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق وفاقی وزیر و ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آغا حسن بلوچ نے اپنے بیان میں سردار اختر جان مینگل کے نام کو صوبائی حکومت اور پولیس حکام کی ایماء￿ پر پی این آئی ایل میں شامل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ صوبائی حکومت کا یہ اقدام اپنی گری ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی ناکام کوشش ہے

عدالت عالیہ کی جانب سے پارٹی قائد کا نام نو فلائی لسٹ سے نکالنے کے حکم کے بعددوبارہ سے نام ڈالنا فارم47کے حکمرانوں کی بوکھلاہٹ ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کر دیا تھا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کے بعدنام دوبارہ لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا جو درست ثابت ہوا

موجودہ حکومت کے وجود میں آنے کے بعد جن بحرانوںنے جنم لیا ہے ان پر کھربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود فارم47کی حکومت قابو نہیں پا سکی تو اب حیلے بہانوں سے اقتدار بچانے کیلئے جھوٹے مقدمات ، پی این آئی ایل فورتھ شیڈول میں نام شامل کرنے جیسے حرابوں پر اتر آئی ہے تاکہ عوام کی توجہ بلوچ مسئلہ سے ہٹائی جا سکے بیان میں کہا گیا ہے کہ سردار اختر جان مینگل کا نام دوبارہ نو فلائی لسٹ میں شامل کرنا صوبائی حکومت کی بوکھلاہٹ ہے ،مقدمات، نوفلائی لسٹ اور فورتھ شیڈول میں مخالفین کے نام شامل کرنا صوبائی حکومت کا وتیرا ہے

پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل وان کے خاندان ، پارٹی دوستوں پر بے بنیاد مقدمات کا اندراج ،نو فلائی لسٹ میں نام شامل کر کے بلوچ قومی تحریک کو کمزور نہیں کیا جا سکتا آمر مشرف کے دور سے ہنوز پارٹی قیادت ، کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا

مگر بلوچ ، پشتون ، ہزارہ ، سیٹلرز سمیت ہر طبقہ فکر کے عوام کے دلوں سے سردارا ختر جان مینگل کو نہ نکالا جا سکا بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی اس ناروا اقدام کے خلاف عدالت عالیہ سے دوبارہ رجوع کریگی –