|

وقتِ اشاعت :   December 15 – 2025

کوئٹہ: سینئر سیاست دان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی اورعوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ میں بلوچستان کے ساتھ جو کچھ کیا گیا یا ہونے جارہا ہے اس کو روکنے کیلئے ہر لحاظ سے اپنا کردار ادا کرناہوگا۔

یہ بات انہوں نے پیر کو عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی رہائش گاہ پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

قبل ازیں دونوں رہنمائوں نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے ملاقات بھی کی،صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ حقیقی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عمل روکنے میں اپنا کردار ادا کریں، اس سلسلے میں جلد مشترکہ اجلاس بلانے جارہے ہیں،گزشتہ روز نیشنل پارٹی کی مرکزی قیادت اور مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں تاکہ ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرکے اس ایکٹ کا از سر نو جائز ہ لیا اور ایسی ترامیم کی جائیں جو خالصتاً بلوچستان کے لوگوں کے مفاد، اٹھارہویں آئینی ترمیم اور آئین کے مطابق ہو تاکہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کے وقار، عزت کا دفاع کرسکیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی سے ملاقات میں طے ہوا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطہ کرکے مشترکہ اجلاس بلاکر اپنی اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے کر اسمبلی میں موجود پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کے زریعے اسمبلی میں پیش کریں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کو اپنی رہائش گاہ آمد پر خوش آمدید اور بلوچستان کیلئے جدوجہد پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وسائل اور عوام کے مستقبل کے تحفظ کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں گے، انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ میں جو کچھ بلوچستان کے ساتھ کیا گیا یا ہونے جارہا ہے اس کو روکنے کیلئے ہم کو ہر لحاظ سے اپنا کردار ادا کرنا چائیے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے کوئٹہ پریس کلب میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کی، وہاں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کی تجویز پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے اعلان کیا کہ ایکٹ کیخلاف عوامی نیشنل پارٹی اسمبلی میں قرارداد پیش کرئے گی

وہاں موجود جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع اور نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر محمد شہی نے بھی مشترکہ قرارداد پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا،

بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی سربراہی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں اسمبلی اور اسمبلی سے باہر کی تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور وزیراعلیٰ نے اسمبلی فلور پر اعلان کیا کہ ایکٹ کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں نے ایکٹ کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع بھی کیا، گزشتہ پیشی کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اسمبلی کے فلور پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایکٹ پر عملدآمد روک دیا گیا ہے

اور ایکٹ کا از سرنو جائزہ لینے کیلئے مشاورت ہورہی ہے۔ انہوں نے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کے اقدام کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلد طلب کی جائے، عوامی نیشنل پارٹی نے ایکٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز تیار کررکھی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اور اسٹیک ہولڈز بلوچستان کے مستقبل اور آئندہ نسلوں کے مفاد میں مشترکہ ڈرافٹ تیار کریں۔