|

وقتِ اشاعت :   December 15 – 2025

کوئٹہ : پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی نے بلوچ شناخت کو جرائم سے جوڑنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل نہ صرف بلوچ قوم کی توہین ہے بلکہ بھارت کے منظم اور مشکوک پروپیگنڈا عزائم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر)پر اپنے بیان میں میر ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچ ثقافت، روایات اور اقدار پاکستان کے شاندار اور متنوع ثقافتی ورثے کا ایک لازمی اور قابلِ فخر حصہ ہیں، جنہیں کسی بھی صورت منفی یا مجرمانہ انداز میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے ایک بھارتی فلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ایک گینگسٹر کو بلوچ کمیونٹی کا نمائندہ بنا کر دکھانا افسوسناک ہے اور یہ ایک سوچے سمجھے بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی ایک منی پاکستان ہے جہاں ملک کی تمام قومیتیں باہمی احترام، رواداری اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتی ہیں، ایسے ماحول میں کسی ایک قوم یا شناخت کو جرائم سے جوڑنا نہایت غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول عمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے منفی کرداروں کو گلوریفائی کرنا نوجوان نسل کو گمراہ کرنے اور انہیں جرائم کی راہ پر ڈالنے کے مترادف ہے، جو معاشرے کے لیے ایک خطرناک رجحان ہے۔میر ظہور بلیدی نے واضح کیا کہ بلوچ قوم کے حقیقی ہیروز اور سفیر گینگسٹر یا مجرمانہ کردار نہیں بلکہ عظیم تاریخی رہنما ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میر جلال خان، میر چاکر خان رند اور دیگر بے شمار عظیم شخصیات بلوچ تاریخ، ثقافت اور روایات کے درخشاں باب ہیں، جنہوں نے عزت، بہادری اور اصولوں کی مثالیں قائم کیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ شناخت کو مسخ کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کیا جاتا ہے اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اصل تاریخ، روایات اور قومی تشخص پر فخر کریں، نہ کہ بیرونی پروپیگنڈے کا شکار ہوں۔

صوبائی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت بلوچ ثقافت کے مثبت تشخص کے فروغ، قومی ہم آہنگی کے استحکام اور نوجوانوں کی درست فکری و سماجی رہنمائی کے لیے ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

میر ظہور بلیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مضبوطی اس کی ثقافتی تنوع اور باہمی احترام میں مضمر ہے، اور کسی بھی قوم کی منفی تصویر کشی درحقیقت پورے معاشرے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔