|

وقتِ اشاعت :   December 18 – 2025

کوئٹہ :  نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ اور رکن صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ نے کہا ہے برسر اقتدار جماعتیں کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی شکست واضح نظر آنے پر راہ فرار اختیار کرنے کے لئے عدالت سے رجوع کرلیا ہے ۔

جبکہ انتخابات کے تمام مراحل مکمل ہونے کے باوجود پولنگ کا مرحلہ باقی رہ گیا ہے۔ پارٹی کے 20 سے 25 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ، ام کلثوم نیاز بلوچ، ڈاکٹر اسحاق بلوچ، چنگیز حئی بلوچ ایڈووکیٹ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کو بیورو کریسی کے رحم و کرم پرچھوڑدیا ہے جس کی وجہ سے کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے۔ گزشتہ 8 سال سے میٹرو پولیٹن کارپوریشن میئر اور بلدیاتی نمائندوں سے محروم ہے ۔

سابق دور حکومت میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو انہوں نے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرایا اس وقت حالات خراب جبکہ امن وامان کا مسئلہ بھی گھمبیر تھا اغواء برائے تاوان اور گینگز متحرک تھے۔

ہم نے دوسرے صوبوں سے پہلے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو بروقت ممکن بنایا اس کے بعد اب تک بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرانے میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے حالانکہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کے علاوہ تمام اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے مراحل مکمل ہوچکے ہیں ۔

تمام اداروں نے الیکشن کا فیصلہ کیا حکومت نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی کہ سردی اور امن و امان کے باعث انتخابات ملتوی کئے جائیں لیکن الیکشن کمیشن نے حکومت کی الیکشن ملتوی کرانے کی درخواست مسترد کردی ہے ۔

اور اس کے بعد حکومت میں شامل جماعتوں کی جانب سے کوئٹہ میں 28دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کے لئے بلوچستان ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے اور وہ اگلے مرحلے میں عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں گے اگر صوبائی حکومت امن وامان قائم نہیں رکھ سکتی تو انہیں حکومت کرنے کا حق نہیں ہے ان کی رٹ ختم ہوچکی ہے جو عدالت گئے ہیں وہ عوام کے مجرم ہوں گے میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو ٹھیکیدار کے حوالے کردیا ہے

میونسپل کارپوریشن کا عملہ اور مشینری کے ساتھ ادارے کو کوڑیوں کے دام فروخت کیا جارہا ہے ہمارا شروع دن سے مطالبہ ہے کہ کوئٹہ کے عوام کو حق دیا جائے کہ وہ اپنے نمائندے منتخب کرسکیں اور اس شہر کو خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں

ہمیں معلوم ہے کہ عوامی بلدیاتی نمائندوں سے حکومت کو تکلیف ہے جو عام انتخابات میں کھل کر جو کھیل کھیلا گیا اور درآمدی لوگوں کو سریاب، مری آباد، ہزارہ ٹائون سمیت کوئٹہ کی تمام نشستوں پر عوام پر زور زبردستی سے فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا ۔