اسلام آباد / کوئٹہ : چیئرپرسن سینٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ خواتین کو نظر انداز کر کے کسی بھی ملک کی ترقی کا خواب پورا نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین آبادی کا نصف حصہ ہیں اور ان کی فکری، عملی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین صرف گھریلو ذمہ داریوں تک محدود نہیں بلکہ وہ ملک کی معیشت، اداروں اور سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
جب تک خواتین کو ان کا جائز مقام نہ دیا جائے اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ حاصل نہ کیا جائے۔
خواتین نہ صرف معاشرے کی بنیاد ہیں بلکہ وہ ملک کی سماجی، معاشی اور قومی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ آج دنیا بھر میں خواتین اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے قیادت، فیصلہ سازی اور خدمات کے اہم منصب سنبھالے ہوئے ہیں۔
پاکستان میں بھی خواتین نے ہر شعبہ زندگی میں اپنی قابلیت کا عملی ثبوت دیا ہے۔
چاہے عدلیہ ہو، سیاست ہو، سماجی خدمات ہوں، تعلیم ہو، صحت ہو یا کھیلوں کا میدان، پاکستانی خواتین نے اپنی محنت اور عزم سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں خواتین ججز اور وکلائنے انصاف کے نظام میں اہم کردار ادا کیا، سیاست میں محترمہ فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو اور دیگر خواتین رہنماو ں نے تاریخ ساز جدوجہد کی، جبکہ سماجی شعبے میں عبدالستار ایدھی کے شانہ بشانہ بلقیس ایدھی جیسی شخصیات نے خدمتِ انسانیت کی مثالیں قائم کیں۔
سیاست میں خواتین پارلیمنٹیرینز نے قانون سازی، عوامی فلاح اور جمہوری عمل کے فروغ میں مو ¿ثر آواز بلند کی، جبکہ سماجی شعبے میں خواتین نے پسماندہ طبقات، خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے عملی جدوجہد کی ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں خواتین ڈاکٹرز، نرسز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز دیہی اور شہری علاقوں میں خدمات انجام دے کر لاکھوں خاندانوں کے لئے امید کی کرن بنی ہوئی ہیں۔ تعلیم کے میدان میں خواتین اساتذہ نئی نسل کی تربیت اور کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں بھی خواتین تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ کھیلوں کے میدان میں بھی پاکستانی خواتین نے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود قومی پرچم بلند کیا ہے۔ محدود سہولیات، سماجی دباو ¿ اور وسائل کی کمی کے باوجود خواتین کھلاڑیوں کی کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر انہیں مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی بخوبی کر سکتی ہیں۔
انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی خواتین کی بہت سی صلاحیتیں مناسب مواقع،
سہولیات اور اعتماد نہ ملنے کے باعث ضائع ہو رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو معیاری تعلیم، ہنر مندی، روزگار اور فیصلہ سازی میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی ترقی کا سوال ہے۔ جب خواتین معاشی طور پر مستحکم ہوں گی تو خاندان مضبوط ہوں گے،
سماج میں بہتری آئے گی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ خواتین کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانا جائے، ان پر اعتماد کیا جائے اور انہیں قومی ترقی کا حقیقی شراکت دار بنایا جائے۔
ایک ترقی یافتہ، مستحکم اور خوشحال پاکستان کا خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب خواتین کو ان کا جائز مقام دیا جائے۔