|

وقتِ اشاعت :   December 20 – 2025


کوئٹہ /اسلام آباد: ایف ایف ٹی اے کی کنٹری ڈائریکٹر نور مرجان کی قیادت میں افغان متاثرہ خاندانوں کے ایک وفد نے نیشنل پارٹی کے رہنما اور سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر جان محمد بلیدی اور رکن قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر پلین بلوچ سے پارلیمنٹ لاجز میں ملاقات کی۔ وفد نے سینیٹر کو اپنی مشکلات اور مسائل سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد روشن خیال، ترقی پسند سوچ رکھنے والوں کے لیے افغان سرزمین پر باوقار زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

افغان طالبان حکومت کے اقدامات سے پیدا ہونے والے خوف کی وجہ سے لاتعداد خاندان ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔

خاص طور پر میڈیا اور تعلیم و تربیت سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد نے ویزے حاصل کر کے پاکستان میں پناہ لی تاہم، یہ بدقسمتی اور حیرت کی بات ہے

کہ پاکستان کی موجودہ حکومت جس کے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات بنیادی طور پر پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے کشیدہ ہیں یہ تسلیم کرنے میں ناکام ہے کہ افغان شہری جو طالبان کے خوف سے پاکستان آئے تھے،

خود دہشت گردی کے اسی خطرے سے بچ رہے ہیں اس کے باوجود حکومت پاکستان، وزارت داخلہ اور اسلام آباد پولیس مختلف ہتھکنڈوں اور حیلوں بہانوں سے ان افغان شہریوں کو تنگ کر رہی ہے، ان سے رشوت لے رہی ہے اور ان کے ویزوں میں توسیع کے بجائے انہیں زبردستی افغانستان میں طالبان حکومت کے حوالے کرنے پر بضد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغان شہری دونوں افغان طالبان کا شکار ہیں۔ ریاست کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد آنے والوں کے ساتھ انسانی رویہ اپنانا چاہیے۔

ان افغان شہریوں کو پولیس کی ہراسانی سے بچایا جانا چاہیے، اور ان کے بچوں کے تعلیمی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔