|

وقتِ اشاعت :   December 24 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خواتین کی جبری گمشدگیوں کا عمل قابل نفرت و مذمت ہے ایسے اقدامات کو کوئی بھی معاشرہ برداشت نہیں کر سکتا موجودہ فارم 47کے دور میں حکومت میں جہاں بلوچستان میں لوٹ مار ، بے روزگاری ، انسانی حقوق کی پامالی ، بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی عروج پر ہے وہاں اب اقتدار پر قابض حکومت بلوچ نوجوانوںاور خصوصا”خواتین کو بھی لاپتہ کرنے کا عمل کی مرتکب ہو رہی ہے

جو کہ انتہائی افسوسناک عمل ہے بیان میں کہا گیا کہ پہلے بھی آپریشن ہوتے رہے ہزاروں بلوچ لاپتہ ہوئے اب عالم یہ ہے کہ بلوچ خواتین کو بھی جبری گمشدگیوں ہو رہی ہیں جو تشویشناک عمل ہے بلوچستان میں ہمیشہ بلوچ روایات کو ملحوظ خاطر رکھاگیا مگراب تو گھروں پر ماورائے قانون چھاپے مارکر خواتین کو بھی لاپتہ کیا جا رہا ہے بلوچ فرزندوں کو ذہنی کوفت و مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے موجودہ فارم 47کے دور حکومت سے کسی بلوچستانی کو خیر کی توقع نہیں

کیونکہ انہیں جن مقاصد کیلئے لایا گیا تو وہ انہی کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں بیان میں بی وائے سی کی چلائی جانے والے مہم و پروگرامزکے حوالے سے کہا گیا کہ عوام بحیثیت بلوچستانی اس مہم میں حصہ لیتے ہوئے سوشل میڈیا فارمز پر اس کا حصہ بنیں بیان میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدہ خواتین کو بے عزت طریقے سے منظر عام پر لاتے ہوئے زندانوں میں قید خواتین کی رہائی کو یقینی بنایا جائے بیان میں کہا گیا کہ نفرتوں کو جنم دینے والے اقدامات کی بجائے مذاکرات سے مسائل کو حل کرنے کی پالیسی اپنائی جائے راہشون سردار عطاء￿ اللہ خان مینگل کے پیروکار ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بلوچ و خواتین و نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے ماورائے قانون اقدامات کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے اور آئندہ بھی آواز بلند کرتی رہے گی