کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بلوچستان کا نوجوان آگے نکل چکا
انہیں قومی دھارے میں لانا انتہائی مشکل ہے ہم خود اس سسٹم سے مطمئن نہیں تو ان نوجوانوں کو کیسے قائل کریں نوجوانوں کو تب ہی واپس لایا جا سکتا ہے جب ہم سسٹم ، سیاسی جماعتوں سے مطمئن ہوں انہوں نے کہا کہ78سالوں میں ہم نے بے گوروکفن ، مسخ شدہ لاشیں دیکھیں ،
آبرو لوٹتے دیکھے اپنے بزرگوں کی پگڑیاں سڑکوں پر اترتی دیکھیں جب تک ہمیں صبر ہے ہم صبر کرتے رہے ہیں اللہ تعالی نے بھی صبر کی حد تک رکھی ہے خدا را ہمیں اس حد کو پار کرنے تک نہ لے جایا جائے انہوں نے کہا کہ 1988میں جب جمہوریت بحالی ہوئی تو ہم نے تصادم کی بجائے پارلیمانی سیاست کا راستہ اختیار کیا 1997میں بلوچستان کے عوام نے بلوچستان قوم پرست قیادت کو اس امید کے ساتھ منتخب کیا تھا کہ وفاق ہمارے حقوق ، حقیقی خود مختاری ، اپنے وسائل میں منصفانہ حصہ دے مگر اس نہ کیا گیا اس کے برعکس ہم نے مرکزیت ، سیاسی عدم استحکام ، معدنی وسائل کی لوٹ مار دیکھی جس سے بلوچستان کی مقامی آبادیوں کو کوئی فوائد حاصل نہ ہواانہوں نے کہا کہ 2006میں نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت نے اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا جبری گمشدگیوں ، اجتماعی سزاں نے مرکز کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا آج بھی بلوچستان میں ایسے لوگ بنائے جا رہے ہیں
جو عوام کے منتخب نہیں بلکہ سیاسی انجینئرنگ کی پیداوار ہیں اس عمل سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے عمل کو مکمل طور پر زہر آلود کر دیا گیا بلوچستان میں حکومتی رٹ باقی نہیں رہی کوئی ایک ضلع چاہے بلوچ ضلعے ہوں یا پشتون علاقے ہوں ماسوائے سی ایم ہاس ، گورنر ہاس ، سیکرٹریٹ اس کے اردگرد کے علاقے یعنی ریڈ زون کے علاوہ اب کوئٹہ میں بھی حکومتی رٹ نہیں رہی
انہوں نے کہا کہ ریاست بلوچستان کے لوگوں خصوصا”نوجوانوں کو اگر ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے تو وفاقی معاہدے کی از سر نو تشکیل ، آئینی و طرز حکمرانی میں اصلاحات ، 1973کے آئین کے تحت بلوچ اور پشتون جیسے محکوم اقوام کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے لہذا احتساب اور مفاہمت کیلئے ایک سچی اور مفاہمتی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں ، سول سوسائٹی ، آزاد عدلیہ ، بین االقوامی انسانی حقوق تنظیموں کی نمائندگی ہونی چاہئے
اعتماد سازی کیلئے فوری طور پر سیاسی قیدیوں کو رہائی ،مقدمات کا خاتمہ اور لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے تشدد کے الزامات پر شفاف عدالتی انکوائری ،ماورائے عدالت قتل سے متاثرہ افراد کیلئے ریاستی معافی اور معاوضہ دیا جائے اور ان جرائم میں ملوث افراد جن کا کسی بھی طبقے ، گریڈ سے تعلق ہو ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے سیاسی انجینئرنگ کا مکمل خاتمہ سیاسی جماعتوں و رہنماں کو آزاد ، شفاف انتخابات میں مقابلہ کرنے دیا جائے کیونکہ وفاق اپنی حیثیت غیر منتخب قوتوں اور مسلط کر قیادت کر کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتا
بلوچستان میں مصنوعی قیادت تنازع کی اصل وجہ ہیں منصوعی قیادت ذاتی فوائد حاصل کر رہی ہیں اسلام آباد اور پنڈی کو خوش کرنے کیلئے صوبے کے حقوق قربان کر دیئے گئے جس کے بدلے میں انہیں کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیلئے کھلی چھوٹ دی گئی ہے
انہوں نے کہا کہ ترامیم ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتی لہذا دفاع ، کرنسی ، خارجہ امور اور بین الصوبائی مواصلات کے سوا تمام تر اختیارات واضح طور پر صوبوں کے پاس ہونے چاہئے مشترکہ مفادات کونسل کو حقیقی اور بااختیار بنایا جائے اور اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا جائے
انہوں نے کہا کہ سینیٹ مالی امور میں کمزور ہے اور وزیراعظم کا قومی اسمبلی سے منتخب ہونا چھوٹے صوبوں کو قیادت کے حق سے محروم کر رہا ہے لہذا سینیٹ کو مالی بلوں میں قومی اسمبلی کے برابر اختیار دیئے جائیں اور دونوں ایوان میں سے کسی ایک سے وزیراعظم منتخب ہو سکے
اور نائب وزیراعظم بھی مقرر ہو جو مشترکہ مفادات کونسل کی سربراہی کرے اور بین الصوبائی ہم آہنگی کی ذمہ داری سنبھالے آئین کی وہ شقیں جو گورنر راج جیسے اقدامات کی اجازت دیتی ہیں یا تو سخت عدالتی نگرانی میں ہوں یا مکمل طور پر ختم کر دی جائیں تاکہ صوبائی عوامی مینڈیٹ کو آسانی سے پامال نہ کیا جائے
ساحل وسائل پر حق ملکیت پر صوبوں کو بنیادی کم از کم 50فیصد حصہ پیداواری دیا جائے این ایف سی میں آبادی کی شرح کم کر کے 25فیصد کی جائے اور غربت ، پسماندگی ، رقبے کی وسعت ، پسماندگی کو حیثیت دی جائے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی تقرری شفاف طریقے سے کی جائیں مقررہ مدت تک وفاقی بیورو کریسی اور مسلح افواج میں تمام صوبوں کو مساوی نمائندگی دی جائے کیونکہ آبادی کی بنیاد پر تقسیم کا ماڈل ناکام ہو چکا۔