وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ میں ہونے والے لوکل گورنمنٹ انتخابات کے حوالے سے حکم امتناع جاری کر دیا۔
وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ کوئٹہ میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں 2017ء کی مردم شماری کی بنیاد پر کی گئیں ہیں جبکہ اب 2023ء کی نئی مردم شماری باضابطہ طور پر نوٹیفائی ہو چکی ہے۔ کامران مرتضیٰ نے عدالت کو بتایا کہ قانون اور آئینی تقاضوں کے مطابق انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کی گئی حلقہ بندیوں کے مطابق ہونے چاہئیں تاکہ عوام کی درست نمائندگی ممکن ہو سکے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن کو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا
کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار نہیں ہے، کوئٹہ کے الیکشن امن و امان اور موسم کی صورتحال نارمل ہونے تک ملتوی کئے جائیں۔ بہرحال اب وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ میں ہونے والے لوکل گورنمنٹ انتخابات کے حوالے سے حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔
بلوچستان میں زمینی حقائق کے مطابق حالات اتنے پر امن نہیں کہ انتخابات کا انعقاد ہو، لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ضروری ہے تاکہ کوئی سانحہ رونماء نہ ہو جس سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو۔
امن و امان کی تسلی بخش صورتحال اور حکومت کے اطمینان اور اعتماد کے ساتھ انتخابات منعقد کئے جائیں تو بہتر ہوگا کیونکہ کوئٹہ میں سخت سردی کے باعث ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم ہوگا، کوئٹہ میں لوگ سخت سردی کے باعث دوسرے اضلاع میں ہجرت کر جاتے ہیں اگر بلدیاتی انتخابات چند ماہ کیلئے ملتوی ہوتے ہیں تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ،موافق حالات میں انتخابات ہونگے تو عوام حق رائے دہی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینگے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی عوام کے وسیع ترمفاد میں ہے، نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی سے عوام کو فائدہ پہنچے گا ان کے بنیادی مسائل دہلیز پر حل ہونگے مگر اس کیلئے سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے۔ انتخابات کانئی مردم شماری کے تحت کی گئی حلقہ بندیوں کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے تاکہ شہریوں کو اپنے نمائندوں کے انتخاب کا پورا حق حاصل ہو۔