بیکڑ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بحیثیت چیف آف بگٹی اپنی ترجیحاتی ایجنڈے کی بلوچی میں کی گئی تقریر میں خواتین کے حقوق، بالخصوص تعلیم کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے ایک جرات مندانہ اور تاریخی مؤقف پیش کیا ہے
جسے قبائلی سماج میں ایک فکری تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ ایک ایسا معاملہ اپنے زرکانیوں اور قبائلی عمائدین کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں
جو ان کے دل کے نہایت قریب ہے ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو سب سے زیادہ حقوق عطاء کیے ہیں مگر عملی طور پر انہوں نے اکثر قبائلی روایات اور خواتین کے حقوق کے درمیان تصادم دیکھا ہے جس کے نتیجے میں عورتوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام وڈیرے، نواب صاحبان اور معتبرین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر خصوصی طور پر خواتین کے حقوق پر سنجیدہ غور کریں انہوں نے تجویز دی کہ ایک ایسی جامع نشست منعقد کی جائے جس میں ان حقوق کا جائزہ لیا جائے جو یا تو سلب ہو چکے ہیں
یا جو قبائلی نظام کی سختیوں کی نذر ہو گئے ہیں تاکہ اجتماعی مشاورت سے ایک نیا مثبت اور عادلانہ رواج متعارف کرایا جا سکے میر سرفراز بگٹی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دہائیوں سے چلے آ رہے بعض روایتی رسم و رواج اب فرسودہ ہو چکے ہیں اور انہی کے باعث خواتین کے حقوق متاثر ہوتے رہے ہیں انہوں نے زور دیا کہ ان روایات کو ایک درست سمت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے
تاکہ قبائلی معاشرہ ترقی، تعلیم اور انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ میر سرفراز بگٹی تاریخ کے پہلے پڑھے لکھے، باشعور اور جدید سوچ کے حامل چیف آف ٹرائب ہیں جنہوں نے اپنی قوم سے پہلی ہی تقریر میں خواتین کو معاشرتی مقام، تعلیم اور حقوق دینے پر کھل کر بات کی مبصرین کے مطابق یہ خطاب نہ صرف بگٹی قبیلے بلکہ مجموعی طور پر بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔