|

وقتِ اشاعت :   January 4 – 2026

کوئٹہ؛  بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام میر یونس گرگناڑی ،ملک نصیر گرگناڑی کی سینکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ پارٹی میں شمولیت کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں تقریب کا اہتمام کیا گیا

جس سے پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل و ایم پی اے ملک نصیر احمد شاہوانی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات و سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر و ضلعی صدر کوئٹہ غلام نبی مری ،

فریدہ بلوچ، ضلعی جنرل سیکرٹری میر جمال لانگو، ڈپٹی جنرل سیکرٹری علی احمد قمبرانی، میریونس گرگناڑی اور ملک نصیر گرگناڑی نے خطاب کیا مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میر یونس گرگناڑی ، ملک نصیر گرگناڑی و دیگر سینکڑوں ساتھیوں کی شمولیت سے پارٹی کوئٹہ میں مزید متحرک و فعال ہوگی بی این پی نے بلوچ جملہ مسائل کے حل ،

بلوچ خواتین کی رہائی و لاپتہ افراد بازیابی کیلئے جہد کو اولین ترجیح دی ہے انسانی حقوق کی پامالی ، بلوچستان میں غیر قانونی چھاپوں کا سلسلہ بند کیا جائے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام قومی کانفرنس سے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کے تاریخی خطاب پر نام نہاد قوم پرست جماعت کے صوبائی صدر کو لاحق پریشانی بوکھلاہٹ ہے مقررین نے کہا کہ بلوچ پشتون و محکوم اقوام کا اتحاد وقت و حالات کی ضرورت ہے بلوچستان نیشنل پارٹی کی جدوجہد بلوچ قوم کے قومی حقوق، بلوچستان کی سرزمین، ساحل اور وسائل کے تحفظ کیلئے ہے اور پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں یہ جدوجہد پوری استقامت کے ساتھ جاری ہے

بلوچ سیاسی اسیران سمیت تمام لاپتہ سیاسی کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیاکہ بلوچ خواتین اور سیاسی کارکنان کو غیرقانونی طور پر قید رکھنا ناقابل قبول ہے کوئٹہ میں پارٹی تنظیم کو ازسرِنو منظم کیا جائے گا جبکہ پارٹی کو مزید متحرک کرنے کیلئے500 یونٹ کھولے جائیں گے

مقررین نے کہا کہ سریاب میں عنقریب خواتین کی بڑی تعداد بلوچستان نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے پارٹی منشور کو آگے بڑھانے والی ہیں بلوچستان اور بلوچ قوم کو اس وقت اتحاد، اتفاق اور یکجہتی کی ضرورت ہے سرزمین کے دفاع کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا

ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی جدوجہد میں آگے بڑھنا ہوگامقررین نے بلوچ خواتین کے ساتھ روا رکھے گئے مظالم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ حالات مزید سنگین ہوتے جارہے ہیں،

ایسے میں بلوچ خواتین کو سیاست میں اپنا بھرپور سیاسی کردار ادا کرنا ہوگافارم 47 کیحکومت کے جبر و بربریت کے خلاف آج کا یہ شمولیتی پروگرام واضح پیغام ہے کہ آج بھی عوام کی توقعات بلوچستان نیشنل پارٹی سے وابستہ ہیںپارٹی قیادت اور کارکنان کو کمزور کرنے کے لیے ہر دور میں سازشیں کی گئیں پہلے ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے کارکنان کو نشانہ بنایا گیا اور اب خودکش حملوں تک نوبت پہنچ چکی ہے راہشون سردار عطااللہ خان مینگل کی برسی کے موقع پر ہونے والے خودکش حملے میں 16 معصوم افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے

جن کی قربانیاں بلوچ خواتین اور سیاسی کارکنوں کی رہائی کیلئے ہیں اور انہیں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گامقررین نے کہا کہ پارٹی وکلاء￿ فورم کی کوششوں سے عدالتوں کے ذریعے تقریباً 200 سیاسی کارکنان کی رہائی ممکن ہوئی جو بلوچستان نیشنل پارٹی کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے

آخر میں مقررین نے نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے جھنڈے پہنائے اس موقع پر میریونس گرگناڑی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی حقوق کی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔