کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ جسٹس آف پیس سے متعلق نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواستوں کی سماعت کی۔عدالت نے ایڈووکیٹ راحب خان بلیدی کی جانب سے دائر آئینی درخواست (سی پی نمبر 13 آف 2026) اور افتخار احمد لانگو و ایڈووکیٹ عبدالبصیر کاکڑ کی درخواست (سی پی نمبر 19 آف 2026) کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران 2026 کے CMA نمبر 27 اور 47 میں فوری سماعت کی اجازت بھی دے دی گئی۔
درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت بلوچستان نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام ڈویژنل کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ان کے متعلقہ علاقوں میں دفعہ 22-A اور 22-B ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کے تحت جسٹس آف پیس مقرر کر دیا ہے۔درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا
کہ یہ نوٹیفکیشن صوبے کے چیف جسٹس کی منظوری کے بغیر یکطرفہ طور پر جاری کیا گیا جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 175(3) کے تحت عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی کے اصول کے منافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 202 اور 203 اور Cr.P.C کے سیکشن 25 کے تحت سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز پہلے ہی جسٹس آف پیس کے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس لیے ایگزیکٹو افسران کو یہ اختیارات دینا آئینی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم کے خلاف ہے۔درخواست گزاروں کے مطابق اگرچہ Cr.P.C کی دفعہ 22 حکومت کو تقرری کا اختیار دیتی ہے،
تاہم یہ اختیار واضح قواعد و ضوابط بنانے سے مشروط ہے، جبکہ حکومت نے بغیر کسی قانونی فریم ورک کے محض ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے عدالتی اختیارات ایگزیکٹو افسران کو منتقل کر کے متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جو عدلیہ کی آزادی کے بنیادی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ اٹھائے گئے
قانونی نکات مزید غور طلب ہیں، جس کے بعد جواب دہندگان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے متنازع نوٹیفکیشن کو آئندہ سماعت تک معطل کر دیا۔
عدالت نے CMA نمبر 46 اور 26 آف 2026 میں بھی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا اور آفس کو ہدایت کی کہ حکم نامے کی نقول جواب دہندگان اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو معلومات اور تعمیل کے لیے ارسال کی جائیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت سردیوں کی عدالتی تعطیلات کے فوراً بعد مقرر کرنے کا حکم دیا۔