|

وقتِ اشاعت :   January 5 – 2026

کوئٹہ :  حب کے علاقے سے ڈیڑھ ماہ قبل سیکورٹی فورسز کی جانب سے 17 سالہ نسرینہ بلوچ کو جبری طور پر اٹھایا گیا

تا حال اس کی رہائی اور ایف آئی آر کا اندراج ممکن نہیں بنایا گیا جس کی وجہ سے اس کے اہلخانہ شدید تشویش میں مبتلا ہے

یہ بات ا س کی اہلخانہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ کے ہمراہ کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ میں سوموار کو پریس کانفرنس کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ 22 نومبر 2025ء کی شب سیکورٹی اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ سادہ کپڑوں میں ملبوس عملہ ہمارے گھر داخل ہوئے

اور میری 17 سالہ بھتیجی نسرینہ بلوچ کو اپنے ہمراہ لے گئے تا حال اس کی رہائی اور ایف آئی آر کے اندراج کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی گئی متعدد بار سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے دفاتر کے چکر لگانے پر ہمیں تسلی دی گئی کہ تفتیش کے بعد نسرینہ کو رہا کردیا گیا

جبکہ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس کی رہائی ممکن نہیں بنائی جارہی پہلے نوجوانوں کو جبری گم کیا جارہا تھا اب نوجوان بیٹیوں کو اغواء کیا جارہا ہے اور کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمیں سخت دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ہم نے اس اندوہناک واقعے کے بعد انصاف کی تلاش میں ہر دروازہ کھٹکھٹایالیکن کوئی داد رسی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ ہم شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا ہیںکہ ہماری بھتیجی کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جارہا ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔

آج کسی کی بیٹی کو اٹھایا جا رہا ہے، کل کسی اور کی باری ہو سکتی ہے۔

اگر ریاستی اداروں کو نسرینہ بلوچ پر کوئی شک ہے کہ اس نے کوئی قانون توڑا ہے، تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، جیل میں ڈالا جائے، قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

مگر اس طرح کسی بیٹی کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا نہ آئینی طور پرجائز نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہم اس ہفتے ہم ماما قدیر کے کیمپ میں بیٹھ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں گی، اور جلد ہی اسی کیمپ سے ایک باقاعدہ احتجاجی پروگرام کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

ہماری بلوچستان کے عوام سے التجا ہے کہ وہ نسرینہ بلوچ سمیت تمام جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے توانا آواز بننے کیلئے ہمارا ساتھ دیں۔