|

وقتِ اشاعت :   January 6 – 2026

راولپنڈی :  افغان سرحد کی بندش کے باعث افغانستان اور سنٹرل ایشیاء تک ایک بڑی مارکیٹ میں زرعی اجناس کی برآمدات میں رکاوٹوں نے کسانوں کو بہت بُری طرح متاثر کیا ہے اور اب تک ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے ۔

آلو سمیت متعدد زرعی اجناس کسانوں کے کھیتوں میں گل سڑ رہی ہیں۔ سانترے اورکھیت کی قیمتیں 50 سے 80 فیصد تک کم ہوگئی ہیں اورکسانوں کو ان کی محنت کی ایک تہائی بھی قیمت نہیںمل پا رہی ۔

یہ بات پی ٹی آئی کسان ونگ مرکزی سیکریٹری اطلاعات خالد نواز سدھرائچ نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں کاشتکاروں اور کسان تنظیموں کے نمائندگان کے ساتھ ہونے والے مشاورتی اجلاسات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر بالخصوص پنجاب کے کسان اورکاشتکاربدترین حالات کا شکار ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ حکومت کے عوامی اعلانات بہت پر کشش ہوتے ہیں مگر اقدامات اس کے برعکس ہیں۔ زراعت کے سات سیکریٹری بدل دیے گئے مگر کوئی واضح زرعی پالیسی سامنے نہ آ سکی ۔

انہوں نے کہا کہ مختلف معتبر ذرائع سے جمع ہونے والی معلومات کے مطابق 25 لاکھ کسان زراعت چھوڑ چکے ہیں اور جو کاشتکار اپنے کھیتوں میںمحنت کرکے غلہ اگا رہے ہیں انہیں ان کی محنت کی پوری قیمت بھی نہیںمل رہی ۔ انہوںنے کہا کہ ہم جہاں بھی جاتے ہیں کسان پریشان ملتے ہیں۔

زراعت کی واضح پالیسی نہ ہونے کی بدولت زرعی پیداوار میں مجموعی طور پر 13.49 فیصد کمی ہو چکی ہے۔

گندم کی پیداوار 8.9 فیصد، مکئی 15.4 فیصد اور کپاس خطرناک حد تک 30.7 فیصد کم ہو چکی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور درآمدات کا راستہ نہ کھولا گیا تو کسان معاشی طورپر تباہ ہوجائیں گے جسکے نتیجے میںملکی زراعت اورمعیشت بھی نیچے جائے گی ۔

خالدنواز سدھرائچ نے کہا کہ مستقل زرعی پالیسی، منصفانہ سپورٹ پرائس اور کسان دوست فیصلے نہ کیے گئے تو ملک کو شدید غذائی بحران اور بھوک جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان بد ترین حالات میں صرف خونما اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ کھیتوں کھلیانوں میں جا کر خودکسانوں سے ان کے مسائل معلوم کرنے کے بعد ان کی مدد کرے اور سہارا دے تاکہ ہماری زراعت تباہی سے بچ سکے ۔۔