کوئٹہ: پروانشل کوارڈی نیٹر بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام ڈاکٹر ذوالفقار علی بلوچ ،ٹریننگ اینڈ این جی او کوارڈی نیٹر(BACP)محمد اشفاق،مذہبی رہنما ڈاکٹر عطاء الرحمن ،ڈاکٹر کے ڈی عثمانی ،مولانا احسن الحق،قاری عبدالحفیظ ،ذاکر عثمانی ،احسان اللہ اوردیگر نے کہا ہے کہ پاکستان میںاسوقت ایڈز کے مریضوں کی تعداد2لاکھ10ہزار کے قریب ہے جن میں سے صرف 49ہزار584رجسٹرڈ ہیں ،ایڈز کے بڑھتے ہوئے مرض کی روک تھام کیلئے علماء کرام،صحافیوں اوردیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا کرداراد اکرنا ہوگا ۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کوبلوچستان ایڈز کنٹرول ،یونیسف کے تعاون سے ’’ ایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام میں مذہبی رہنماوں اور میڈیا کے کردار ‘‘کے حوالے سے کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی اور ایڈز ایک نہایت خطرناک مرض ہے اسوقت ساری دنیا اس مرض کے پھیلنے اورانسانی زندگیوںکے ضائع ہونے سے پریشان ہے
اب تک اس بیماری سے کروڑوںافراد موت کا شکار ہوچکے ہیں اوراس بیماری کا شکار افراد نہایت اذیت ناک اور تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں سب سے زیادہ پریشان ککن بات یہ ہے کہ ایڈز ہونے کے بعد اس سے مکمل صحت یابی ممکن نہیں اس لئے اس بیماری کی روک تھام اوربچاؤ کے اقدامات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھرمیں ایڈز کا پہلا کیس1980ء کی دہائی میں سامنے آیا اوردیکھتے ہی دیکھتے وبائی صورت اختیار کرگیا اس بیماری سے سب سے زیادہ افریقی ممالک متاثر ہوئے ہیں لیکن رفتہ رفتہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ تمام مماکن اسکی لپیٹ میں آگئے۔انہوں نے کہاکہ2021کے اعدادو شمارکے مطابق دنیا بھر میں ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد3کروڑ 80لاکھ کے لگ بھگ ہے سالانہ 15لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہورہے ہیں ابتک 3کروڑ40لاکھ افراد ایڈز یا اس سے منسلک بیماریوں سے لقمہ اجل بن چکے ہیں جس میں زیادہ تر تعداد 15سے 24سال تک کے عمر کے لوگوں کی ہے ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ تقریباً 40فیصد افراد کی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے جوکہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی اورایڈز کی بیماری کا آغاز1987ء میں ہوا اور2010سے لیکر20211تک وائرس سے متاثرہ افراد کی شرح میں 84فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے یو این ایڈز کے 2022کے اعدادو شمار کے مطابق اسوقت پاکستان میں اندازاً 2لاکھ10ہزار افراد ایچ آئی وی یا ایڈز کا شکار ہیں لیکن صرف 49584کے لگ بھگ افراد نے اپنے آپ کو رجسٹرڈ کرایا ہے ان میں سے 29626افراد ادویات کا استعمال کر رہے ہیں
جن کی شرح 13فیصد تک ہے جبکہ عالمی ہدف کے مطابق ادویات استعمال کرنے والے مریضوں کی شرح 95فیصد تک ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ایڈز کی روک تھام میں علماء کرام ،اساتذہ ، ڈاکٹرز ، وکلاء،صحافیوں سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا کرداراد اکرنے کی ضروگرت ہے ہمارے معاشرے میں علماء کرام کو بہت عزت اور تکریم سے دیکھاجاتا ہے اورانکا ایک منفرد مقام ہے علماء کرام عوام کو شعورو آگاہی کی فراہمی میں اپنا کردارادا کریں۔