کوئٹہ؛ سینئر سیاستدان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے اسلام آباد میں ہونے والی مائنس بلوچستان نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان اس نیشنل ڈائیلاگ کا حصہ نہیں،
کانفرنس میں بلوچستان کے اجتماعی قومی اموراور مسائل سے روگردانی کرکے انہیں پوشیدہ رکھا گیا،وفاقی پارٹیاں اور بلوچستان میںنمائندگی کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتوں کی اکثریت بلوچستان کے بڑے امور پر خاموش ہوکرپارلیمان میں اپنے کوٹہ کی منتظر ہیں،
بلوچستان کے حقیقی سیاسی کارکن، سیاسی ذہن رکھنے والے طالب علم ، وکلاء دانشور اپنے قومی فیصلوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر قومی امور معاملات اور تاریخ کا دفاع کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یہ بات انہوںنے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہی ،نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے سات جنوری کو اسلام آباد میں ہونے والی نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس میںقومی وحدت بلوچستان کے مسائل سے روگردانی کی مذمت کرتے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ میں سیاسی سہولت کاروںاورگمنام سیاسی لوگوں کو سامنے لاکر حکومتی ناکامیوں اور عوامی دبائو سے توجہ ہٹانے کیلئے قومی مذاکرات کی بات ہورہی ہے ، بلوچستان کے لوگ مائنس بلوچستان نیشنل ڈائیلاگ کو مسترد کرتے ہیں،
انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس تھی تو اس میں بلوچستان کے امور پر بات ہونی چائیے تھی، یہاں لوگ لاپتہ ہیں ،
جعلی قانون سازی کے ذریعے وسائل لوٹے جارہے ہیں،نجی ہوٹل میں سازش تیار کرکے لوگوں کو پارٹیوں میں تقسیم کرکے صوبے پر کلیکٹڈ حکومت کو مسلط کیا گیا ہے
سیاسی سہولت کار ان امور پر بھی بات کرتے؟انہوںنے کہاکہ وفاقی پارٹیاں اور بلوچستان کی نمائند گی کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتوں کی اکثریت بلوچستان کے بڑے امور پر خاموش ہوکرپارلیمان میں اپنے کوٹہ کی منتظر ہیں،
سیاسی پارٹیوں پر عقیدت مندوں، سمگلرز ، ٹھیکیداروں اور درباریوں کا قبضہ ہے ایسے میں بلوچستان کے حقیقی سیاسی کارکن بلوچستان کو ایک قومی نظم کی طرف لے کر بڑھتے ہوئے صوبے کے امور پر توجہ دیں،
سیاسی ذہن رکھنے والے طالب علم ، وکلاء دانشور، نوجوان سیاسی کارکن اپنے قومی فیصلوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر قومی امور معاملات اور تاریخ کا دفاع کرتے ہوئے درپیش بحرانوں سے نکلنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔