کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر سابق رکن صوبائی اسمبلی اصغر خان اچکزئی نے سرکاری ملازمین کے اتحاد گرینڈ الائنس کے احتجاجی شیڈول کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 22 جنوری کو آل پارٹی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کردیا
حکومت سیاسی کارکنوں اور گرینڈ الائنس کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتاریاں اور ان کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال رہی ہے درست عمل نہیں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اپنے دیگر ساتھیوں ثناء اللہ کاکڑ، شان عالم اور دیگر کے ہمرا کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔
اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ ایک ہی ملک کے دو صوبوں میں امن جبکہ 2صوبے عدم استحکام سے دوچار ہیں ۔
اور امن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے جو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی ارکان گرینڈ الائنس کے ساتھ ہیں
ملک میں سیاسی جماعتوں کا مقابلہ قابض قوت کے ساتھ رہا ہے
مسلح سیاسی جماعت اپنے مفادات کو ہمیشہ عزیر رکھتی ہے ملک میں روز اول سے سیاسی جماعتوں کا مقابلہ غیر جمہوری قوتوں سے رہا ہے گرینڈ الائنس ملازمین کے ساتھ کئے گئے وعدے حکومت پورے کرے نااہل حکومت نے 2لاکھ 32ہزار ملازمین کو دیوار سے لگا دیا ہے
حکومت صرف اپنے آپ کو محفوظ کرنے پر توجہ دے رہی ہے موجودہ اسمبلی جعلی ہے ملک میں سیاسی جماعتوں میں اختلاف حکومتی سطح پر پیدا کردہ ہیں سیاسی کارکنوں کے بعد 38ایسے لوگ گرفتار ہیں جن میں پروفیسرز بھی شامل ہیں ملازمین کے ساتھ انتقامی کارروائیاں اور گھروں پر چھاپے کونسی دانشمندی ہے حکومتی کمیٹی نے بارہا مذاکرات کئے اور اب کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے
بلوچستان کا حقیقی گل دستہ یہاں کے ملازمین ہیں حکومت ملازمین کے ساتھ بربریت پر اتر آئی ہے جو حکمرانوں اور صوبے کے لئے نیک شگون نہیں
انہوں نے کہا کہ گرینڈ الائنس کے ساتھ حکومتی کمیٹی کی جانب سے 6نکات پر اتفاق کرنے کے بعد کاروائیاں شروع کردی گئیں وفاق کی طرز پر صوبے کو مراعات دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا گرینڈ الائنس نے ڈیوٹی نہ دینے والوں اور اصلاحات لانے کی مخالفت نہیں کی ملازمین کے 6نکات تسلیم کرنے کے بعد ملازمین کو گرفتار کرنا ان پر ظلم ڈھانے کے مترادف ہے سیاسی ورکرز پر پابندیوں کے بعد حکومت ملازمین کے خلاف کارروائی کررہی ہے جو صوبے اور حکومت کے لئے بہتر عمل نہیں
انہوں نے کہاکہ حکومت اپنی گورننس کو بہتر بنانے کی بجائے صوبے میں توڑ پھوڑ کا عمل کررہی ہے جس طرح سڑکوں کو توڑا جارہا ہے اور راستے غیر محفوظ ہیں۔
اس لئے آج بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے اور ملک میں سیاسی جماعتوں میں اختلاف حکومتی سطح پر پیدا کردہ ہیں۔
جس کا واضح ثبوت بلوچ یکجہتی کے رہنما پابند سلاسل ہیں حالانکہ عدالت نے ان کو ریلیف دیا ہے۔
جس پر عملدرآمد نہیں کیاجارہا جو عدلیہ کے فیصلوں کی پاسداری نہ کرکے قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دس روز قبل اے این پی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ولی داد میرانی کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیااس کے علاوہ مونسپل کارپوریشن چمن کے چیئرمین اور انکے دو ساتھیوں کو جلسہ کرنے کی پاداش میں مقدمہ درج کیا گیا۔
ڈاکٹر اکرم وردگ کے گھر پر چھاپہ اور ان کے بھائی کو حراست میں لیا گیا جبکہ ملازمین کے ساتھ انتقامی کارروائیاں کرکے ان کے گھروں پر چھاپے دانشمندی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت گرینڈ الائنس کی عدالتی معاونت کرے گی اور اس وقت ملک میں نادیدہ قوتیں حکومت چلارہی ہیںجس کی وجہ سے حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جارہے ہیں۔