|

وقتِ اشاعت :   January 11 – 2026

کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق کے سفرمیں وسعت وبہتری لاکربھرپورآوازاٹھائیں گے وفاقی حکومت لانگ مارچ کے وعدے ومعاہدے کو پورے اور نوٹیفکیشن جاری کرے وفاق وعدوں پرعمل درآمدنہ کرنے کی وجہ سے بداعتمادی پیداکررہی ہے گرینڈالائنس سے کیے گیے وعدوں پرعمل کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی مجلس شوری وذمہ داران اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں بلوچستان بھرسے اراکین شوری وصوبائی ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس میں جماعت اسلامی بلوچستان کی تنظیمی الخدمت وشعبہ جات کی رپورٹ آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت وفیصلے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے مزیدکہا کہ جماعت اسلامی نے بلوچستان کے سلگتے

مسائل کے حل مطالبات کی منظوری تک کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا۔حکومتی ٹیم نے مذاکرات کیے وعدے کیے حکومتی ٹیم نے لکھ کردے دیامگروعدوں پرعمل درآمدابھی تک نہیں ہواحکمران ہمیں دوبارہ احتجاج پرمجبورکررہاہے

حکمرانوں نے مطالبات وکیل گیے وعدوں پرعمل درآمدنہیں کیے توہم دوبارہ احتجاج شروع کریں گے۔شوری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جماعت اسلامی کے لانگ مارچ سے کیاگیاوعدہ فی الفورپوراکریں لانگ مارچ سے کیاگیامعاہدہ پورے بلوچستان کے عوام کے مسائل ومطالبات تھے لاپتہ افرادکی فوری بازیابی ،بارڈرزبندش کاخاتمہ،تجارت کی بحالی،چیک پوسٹوں و بارڈرزپرتذلیل بند،سی پیک سیندک ریکوڈک کے ثمرات اہل بلوچستان کودیے جائیں۔

بلوچستان کوریگستان بنانے والوں کوسزاملنی چاہیے آج وفاق ومقتدرقوتوں کی زیادتیوں کی وجہ سے سارابلوچستان احتجاج پرہیں ملازمین عوام نوجوان سب جائزآئینی حقوق چاہتے ہیں وفاقی حکومت خالی خولی اعلانات بے عمل وعدے اوردعوے کرکے ٹرخارہے ہیں لولی پاپ سے بلوچستان کامسئلہ حل ہوگانہ خیرات سے بلکہ جائزحقوق عزت واحترام ہی بلوچستان کے عوام کاغم وغصہ ٹھنڈاکرسکتے ہیں صرف وعدے بے عمل اعلانات مسائل مشکلات وپریشانیوں میں کمی کے بجائے اضافہ کاسبب ہیں۔