گزشتہ ہفتے اسلامی جمہوریہ ایران میں ایسے واقعات اور خلفشار دیکھنے میں آیا ،جس نے انقلاب اسلامی کے دوستوں اور دشمنوں، دونوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی اور عصر حاضر میں ایک بار پھر حق و باطل کے تصادم کا منظر دنیا کیلئے عیاں ہوا۔ تقریباً دو ہفتے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے زرمبادلہ کی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور تاجروں اور سوداگروں کی قوت خرید پر اس کے براہ راست اثرات کی وجہ سے تہران کے تاجروں کی جانب سے پر امن احتجاجی مظاہرے شروع ہو ئے،
جس کے نتیجے میں بالآخر مارکیٹیں اور دکانیں بند ہو گئیں اور تہران کے تجارتی علاقوں میں محدود او پر امن احتجاجی مظاہرے ہوئے، لہذا عزت مآب صدر جناب ڈاکٹر پزشکیان نے حکومت کی اقتصادی ٹیم کے ساتھ فوری طور پر بازاروں کی انجمنوں اور ٹریڈ یونینوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کیں اور شرح تبادلہ کو مستحکم کرنے اور مارکیٹوں اور دکانوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدے کیے، لیکن بیرونی دشمن جو موقع کے انتظار میں تھا اس نے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی انقلاب اور ایرانی عوام کے خلاف کثیرالجہتی اور ہمہ گیر جنگ شروع کر نے کی ٹھان لی۔
اس کہانی کی حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران صیہونی اور امریکی حکومت کی طرف سے 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کا سیز فائر تو ہوگیا،مگر 12 روزہ جنگ کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے جو ان الحادی طاقتوں کو شدید دھچکا لگا وہ اس کی تلافی کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کو بھرپور ضرب لگانے کی اور اسکی تلافی کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں۔،لہذا انہوں نے اس موقع سے فاہدہ اٹھاتے ہوئے ایران سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی دھمکی سے لے کر ایران پر اقتصادی پابندیوں میں شدت تک ،حتیٰ ایران میں غیر ملکی کرنسی کی منتقلی کو روکنے کی ناکام کوشش تک کے اقدامات کے ذریعے ایران کے مسلمان اور انقلابی عوام کے خلاف ہر روز ایک نئی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان اقدامات سے دشمن اسلامی جمہوریہ ایران میں معاشی بحران پیدا کرنے کیلئے، مختلف ہتھکنڈوں سے لیکر علمی پیشرفت کو روکنے اور اندرونی سطح پر مظاہروں کو شروع کروا کر بدامنی پھیلانے اور مظاہروں کو تصادم کی طرف لے جانے کے درپے رہا۔
انقلاب دشمن قوتوں نے ایران کو داخلی مسائل میں الجھانے کے ساتھ ساتھ ، موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوجی مداخلت کی اور 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی حکومت کی تبدیلی کے ناکام منصوبے کو مکمل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ لہذا اس منصوبے کے تحت دشمن نے عجلت میں اپنی کامیابی کے سہانے خواب دیکھتے ہوئے اپنی خفیہ فوج کو میدان میں لایا، اور ایران میں اقتصادی عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے مختلف شہروں میں پر تشدد مظاہرے شروع کروا دیے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت کی دعوت پر ان کی حمایت سے میدان میں آنے والے دو گروہ تھے۔
لوگوں کا پہلا گروہ، بنیادی طور پر سادہ لوح اور ناتجربہ کار نوجوانوں کا گروہ تھا ، جو ملک کی موجودہ صورتحال اور اس کے مسائل کو صحیح سمجھے بغیر سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپیگنڈوں کے زیر اثر جذبات میں آ کر اس میدان میں اترا، اور غیر ارادی طور پر دشمن کاآلہ کار بن کر اس آگ کو بھڑکانے میں شامل ہوا اور عوامی املاک کو بہت نقصان پہنچایا۔جبکہ دوسرا گروہ ان مسلح دہشت گردوں کاگروہ تھا، جنہیں ان دشمن قوتوں کی جانب سے پیشگی تربیت دی گئی تھی اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے دشمنوں سے رقم حاصل کی ہوئی تھی،ان لوگوں نے ایران کی سیکورٹی فورسز کو قتل کرکے امریکی فوجی مداخلت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی، لیکن رہبر معظم کے فیصلہ کن اور واضح پیغام کے بعد، پر امن احتجاج کرنے والے لوگ فسادیوں اور دہشت گردوں سے الگ ہوگئے۔
رہبر معظم حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ٹریڈ یونین،تاجروں اور مہنگائی سے متاثر لوگوں کے احتجاج کے حق کی توثیق کرتے ہوئے فسادیوں اور دہشت گردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی رعایت کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران کئی لاکھ شہداء کے خون سے آیا ہے اور تخریب کاروں سے کسی بھی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔
لہذا پر امن احتجاج کرنے والوں کی حظاظت اور کیلئے قدامات اٹھائے گئے اور ان کی صفوں سے دہشگردوں اور فسادیوں کو دور رکھنے کیلئے پولیس نے بھر پور کردار اداء کیا۔
نیز حکومت نے پر تشدد مظاہرین سے بھی نمٹنے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور انہیں دشمنوں کے ناپاک عزائم اور فسادیوں کی بربریت سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ جس کے نتیجہ میں ایران کے فہم و فراست رکھنے والے عوام نے اسلامی جمہوریہ کی حکومت کی بھر پور حمایت کی اور فسادیوں کو اپنی صفوں سے نکا ل باہر کیا ،جبکہ غیر ملکی حکومتوں ، غداروں اور بادشاہت طلبوں کی دعوت کو ہر گز قبول نہ کیا۔ انہی اقدامات کی وجہ سے بالآخر پر امن احتجاج کرنے والے لوگوں سے فسادی، مسلح دہشت گردو جو ایران کی سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے تھے،الگ ہوگئے اور ایران کے بیشتر شہروں میں گزشتہ دو راتیں پرامن گزری ہیں۔
بدقسمتی سے اس صورتحال میں متعدد ایرانیوں نے اپنی جانیں گنوائیں اور اسی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ امید ہے کہ خداوند تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے حلیف دشمنوں کی یہ سازش اس بار بھی عبرتناک شکست سے دوچار ہوگی۔ ایک بار پھر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس عمل میں ایران کی بہادر اور غیرتمند مسلم قوم نے ایک بار پھر اپنے حقیقی دوست اور حقیقی دشمنوں کو پہچان لیا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ امریکہ کے صدر نے مسلح دہشت گردوں کی کس طرح حمایت کی ہے، جنہوں نے ایرانی عوام کے جان و مال پر کوئی رحم نہیں کیا۔ صیہونی حکومت کے رہنماؤں نے مسلح دہشت گردوں کے ساتھ اپنی افواج کی موجودگی کا بھی ذکر کیا اور یورپی یونین کے بعض عہدیداروں نے بھی فسادیوں کی بھر پور حمایت کی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے پیارے عوام اور پاکستان کی معزز حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام، نظام اور قیادت کی بھر پور حمایت کی اور ایران کے خلاف کسی بھی دہشت گردی اور مخالف میڈیا تحریکوں کی مذمت کی ہے۔ یقیناً یہ دوستی اور وہ دشمنی ایرانیوں کی تاریخ میں ہمیشہ کیلئے ثبت رہے گی اور وقت کے تناظر میں دونوں ملکوں کے عوام اور حکومتوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب کر نے کا باعث بنے گی۔