امتِ اسلامی کے بصیر پیشوا، شہیدِ راہِ قدس، حضرت آیت اللہ خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی ملکوتی عروج اور مجاہدانہ شہادت کو چالیس دن گزر چکے ہیں۔ ان ایام میں جب ان کی ہجرتِ سرخ کی خوشبو پوری اسلامی دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مومنین کے دل بھی امتِ مسلمہ کے عالمی سوگ کے ساتھ ہم نوا ہو کر اس جانسوز فراق میں تڑپ رہے ہیں۔ لیکن اس تاریخی موڑ پر جو چیز جذباتی پہلوؤں سے بالاتر ہو کر ضروری ہے، وہ ان کی “قائدانہ شخصیت” کی دقیق وضاحت اور تبیین ہے؛ ایک ایسی قیادت جو ایک روایتی سیاسی عہدے سے کہیں بلند، عصرِ حاضر کے ایک “حکیمِ الٰہی” اور عظیم اسٹریٹجسٹ کی تھی، جنہوں نے اس پرآشوب دور میں اسلامی عزت کی نئی بنیادیں رکھیں۔ بلوچستان پاکستان کے دانشوروں، نخبگان اور بالخصوص پرجوش نوجوانوں کے لیے اس عظیم شہید کی سیرت اور مکتب کا تجزیہ چند کلیدی پہلوؤں میں کیا جا سکتا ہے۔