کوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں معاشرتی سطح پر بڑھتے ہوئے تشدد اور انتہا پسندانہ رجحانات کے مؤثر تدارک کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے بلوچستان کے پہلے ریسرچ سینٹر، بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کا باقاعدہ افتتاح کردیا افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء لانگو ، اراکین اسمبلی اعلیٰ سرکاری حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی جہاں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات نے سینٹر کے اغراض و مقاصد، تحقیقی دائرہ کار اور آئندہ کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی
اس موقع پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ سینٹر تحقیق کے ذریعے نوجوانوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرے گا اور ان کے حل کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرے گا انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ پرتشدد سوچ اور انتہا پسندانہ بیانیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس اہم اقدام کو عملی جامہ پہنانے پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات اور متعلقہ انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سینٹر کے افتتاح کے بعد نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوئٹہ کیمپس کے ایڈمن بلاک پہنچے جہاں انہوں نے پودا لگایا اور ایک اجلاس کی صدارت کی اس دورے کے موقع پر جامعہ کے طلبہ سے یوتھ ڈائیلاگ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ پاکستان کے ایک معیاری تعلیمی ادارے میں مستقبل کے معماروں سے مخاطب ہیں انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو تصور اور حقائق میں فرق سمجھنے کے لیے عملی تحقیق کو اپنانا ہوگا انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت پورا معاشرہ پروپیگنڈا بیانیوں کے چیلنجز سے دوچار ہے اور ریاست پاکستان کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈے میں وہ عناصر ملوث ہیں جنہوں نے ابتدا ہی سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ حقائق کی نسبت تصورات زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں جس کے باعث بلوچستان سے متعلق حقیقت اور تاثر میں واضح فرق پیدا ہو جاتا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں بلوچستان کی ایک خوبصورت اور مثبت کہانی موجود ہے تاہم چند عناصر نے ان تاریخی حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بلوچستان سے متعلق حقائق اور ریاستی بیانیے پر ہر سطح پر مکالمے کے لیے تیار ہیں انہوں نے اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پر 17 مہلک حملے ہوچکے ہیں تاہم وہ ریاست کے دفاع کے لیے مزید سترہ سو حملوں کے لئے تیار ہیں انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلا جھجھک سوال کریں اور ہر سوال کا جواب دلیل اور حقائق کی بنیاد پر دیا جائے گا
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ میرٹوکریسی اور مسلسل مکالمے کے ذریعے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان موجود خلیج کو ختم کیا جا سکتا ہے اس موقع پر انہوں نے طلبہ و طالبات کے ساتھ چارھ گھنٹوں سے زائد طویل نشست میں بھرپور مکالمہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ہر بچے اور ہر بیٹی کے سوال کا جواب دیے بغیر نہیں جائیں گے مکالمے کے دوران کھل کر سوالات کی حوصلہ افزائی کے لیے کیمرے بند کروائے گئے جبکہ وزیر اعلیٰ نے اپنے ذاتی عملے کو بھی دیگر مصروفیات کی یاد دہانی سے روک دیا تاکہ وہ مکمل توجہ کے ساتھ نوجوانوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھ سکیں یوتھ ڈائیلاگ کے اس سیشن میں طلباء نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے تاریخی، سماجی ، سیاسی ، انتظامی امور ، حکومتی اقدامات سمیت مختلف تلخ و شیریں سوالات کئے جن کا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صبر و تحمل اور دلیل سے مفصل جواب دیا
Leave a Reply