|

وقتِ اشاعت :   April 14 – 2026

امتِ اسلامی کے بصیر پیشوا، شہیدِ راہِ قدس، حضرت آیت اللہ خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی ملکوتی عروج اور مجاہدانہ شہادت کو چالیس دن گزر چکے ہیں۔ ان ایام میں جب ان کی ہجرتِ سرخ کی خوشبو پوری اسلامی دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مومنین کے دل بھی امتِ مسلمہ کے عالمی سوگ کے ساتھ ہم نوا ہو کر اس جانسوز فراق میں تڑپ رہے ہیں۔ لیکن اس تاریخی موڑ پر جو چیز جذباتی پہلوؤں سے بالاتر ہو کر ضروری ہے، وہ ان کی “قائدانہ شخصیت” کی دقیق وضاحت اور تبیین ہے؛ ایک ایسی قیادت جو ایک روایتی سیاسی عہدے سے کہیں بلند، عصرِ حاضر کے ایک “حکیمِ الٰہی” اور عظیم اسٹریٹجسٹ کی تھی، جنہوں نے اس پرآشوب دور میں اسلامی عزت کی نئی بنیادیں رکھیں۔ بلوچستان پاکستان کے دانشوروں، نخبگان اور بالخصوص پرجوش نوجوانوں کے لیے اس عظیم شہید کی سیرت اور مکتب کا تجزیہ چند کلیدی پہلوؤں میں کیا جا سکتا ہے۔


پہلے پہلو میں، ان کے “وحدتِ وجودی” کے نظریے کا ذکر کرنا ضروری ہے جو جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر تھا۔ شہید رہبر کی شخصیت آیتِ کریمہ “اَشِدَّاء ْ علیَ الکْفَّارِ رْحَمَاء ْ بَنیھْم” کی مکمل عملی تصویر تھی۔ ان کی نظر میں شیعہ اور سنی کے درمیان وحدت کوئی سیاسی مصلحت یا وقتی ضرورت نہیں تھی، بلکہ یہ ایک “گہرا اعتقادی اصول” اور قرآن کے متن سے ماخوذ حقیقت تھی۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی جانب ان کی خصوصی نظر، جسے وہ “غیرت، حیا اور وفاداری کا مرکز” قرار دیتے تھے، اس گہرے یقین کی عکاس تھی کہ مصنوعی اور سرحدی تقسیم “امتِ واحدہ” کی تشکیل میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ انہوں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ ایک مذہبی قائد اعلیٰ ترین سطح پر تمام مسلمانوں کے حقوق اور عزت کا پاسبان ہو سکتا ہے؛ چاہے وہ فلسطین اور غزہ کے پامال شدہ حقوق ہوں یا کشمیر اور دنیا کے دیگر حصوں میں مظلوموں کی پکار۔


دوسری طرف، استعماری نظام کے خلاف ہوشمندانہ مقابلے میں “انقلابی عقلیت” امام خامنہ ای کے مکتب کے نمایاں ترین پہلوؤں میں سے ایک تھی۔ انہوں نے آئیڈیلزم اور حقیقت پسندی کا ایک حیرت انگیز امتزاج پیش کیا۔ ان کی قیادت درست حساب کتاب، دشمن کے محاذ کی ذہانت سے نگرانی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنے پر استوار تھی۔ انہوں نے امتِ مسلمہ اور خطے کی قوموں کو سکھایا کہ حقیقی طاقت فوجی اسلحہ خانوں یا غیر ملکی طاقتوں پر انحصار میں نہیں، بلکہ ایمان، استقامت اور داخلی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے میں ہے۔ خود اعتمادی کا یہ نمونہ وہی نسخہ ہے جو بلوچستان کے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ترقی اور آزادی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی دور اندیش نگاہ سے اسلامی ممالک کو کمزور اور تقسیم کرنے کی استکباری سازشوں کو پہچانا اور اپنی حکمتِ عملی سے انہیں ناکام بنایا۔


اسی طرح سیاست کے میدان میں روحانیت اور اقتدار کا ملاپ، ان کی شخصیت کو بلوچستان کے مومن عوام کی نظر میں ممتاز اور محبوب بناتا تھا۔ ان کی سیرت کی نمایاں خصوصیت عالمی پیچیدگیوں پر مکمل دسترس کے باوجود ان کا زہد اور انتہائی سادہ طرزِ زندگی تھا۔ ان کے مکتب میں سیاست اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ مستضعفین (پسماندہ طبقات) کی خدمت اور عدل کے قیام کا وسیلہ تھی۔ قرآن کریم اور عرفان کے ساتھ ان کا گہرا اور اٹوٹ رشتہ ان کے بڑے سیاسی فیصلوں کو خدائی رنگ عطا کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے الفاظ کیونکہ ایک دردمند اور پاکیزہ دل سے نکلتے تھے، اس لیے وہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں اور دنیا کے دیگر حصوں میں بیدار دلوں پر براہِ راست اثر کرتے تھے۔


آخر میں، “تزویراتی صبر(Strategic Patience)”اور فعال مزاحمت کی میراث وہ بڑا سبق تھا جو انہوں نے دنیا کو سکھایا۔ ان کی شخصیت آیت “فَاستَقِم کَما اْمِرتَ” کی عملی تصویر تھی اور انہوں نے دکھایا کہ بڑی لہروں اور طوفانوں کے سامنے رکنا یا پیچھے ہٹنا نہیں چاہیے۔ اپنی طویل مدتی حکمتِ عملی سے انہوں نے مزاحمتی محاذ کو بکھرے ہوئے گروہوں سے ایک مضبوط اور متحد نیٹ ورک میں بدل دیا جو آج پورے خطے کے لیے امن کا سایہ اور دشمن کے لیے خوف کی علامت ہے۔ اس راستے میں ان کی شہادت ان کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل تھی؛ وہ قائد جنہوں نے دوسروں کو مجاہدت کی دعوت دینے سے پہلے، خود اپنی پوری زندگی اور آخری لمحے تک امتِ مسلمہ کے مقاصد کے لیے قربانی کے ہراول دستے میں کھڑے رہے۔


ہم کوئٹہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی ادارے (خانہ فرھنگ) میں یہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کا باشعور طبقہ اور نوجوان نسل آج اس عظیم فکری نظام کو جاننے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ پیاسی ہے۔ ان کا راستہ عزت، قومی آزادی اور مستکبرین پر مستضعفین کی حتمی فتح کا راستہ ہے جسے انہوں نے اپنے پاک لہو سے سینچا۔ بلاشبہ اس خطے اور پوری اسلامی دنیا میں ان کے روحانی فرزندوں کی بیداری اور پائیداری کے ساتھ یہ راستہ پہلے سے زیادہ پر شکوہ اور بالندہ انداز میں جاری رہے گا۔(مضمون نگار کلچرل اتاشی و ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران، کوئٹہ میں تعینات ہیں )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *