کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچستان کی بگڑتی ہوئی سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے نوآبادیاتی جبر، ریاستی تشدد اور منظم بربریت کا سامنا کر رہی ہے، جو اب ایک نہایت تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بلوچ طلبہ، سیاسی کارکناں اور قیادت کی غیر آئینی و غیر قانونی جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
مرکزی ترجمان نے بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سابق چیئرمین رمیز جوہر بلوچ کی جبری گمشدگی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رمیز جوہر ولد نواب کا تعلق ضلع آواران کے پسماندہ گاؤں کمبرو سے ہے۔ وہ بی زیڈ یو ملتان کے شعبۂ اردو سے فارغ التحصیل طالب علم ہیں اور حالیہ دنوں میں کوئٹہ میں مقیم تھے۔ رمیز جوہر کو 12 جنوری 2026 کی صبح تقریباً 4 بجے کوئٹہ کے علاقے بروری روڈ، بولان پلازہ سے تشدد کا نشانہ بنا کر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے منتخب چیئرمینوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر تاریک زندانوں میں قید کیا جا چکا ہے۔ ان میں انیس بلوچ، جنہیں 3 جون 2024 کو خضدار سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جبکہ شعیب بلوچ کو 12 مئی 2025 کو کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال سے غیر قانونی طور پر گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ جو تاحال لاپتہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا آئین اب محض کتابوں کی زینت بن کر رہ گیا ہے، جسے بلوچ قوم کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی آئین کی آڑ میں بلوچ طلبہ، سیاسی کارکنوں اور قیادت کو نشانہ بنا کر انہیں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف ظلم کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ بلوچ قوم اور آنے والی نسلوں میں شدید نفرت اور محرومی کو جنم دے رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری اور آئینی ریاست کے دعوؤں کے سراسر منافی ہے۔
بیان کے آخر میں مرکزی ترجمان نے حکومتِ وقت، عدلیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ بلوچ طلبہ اور رہنماؤں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو فوری طور پر روکا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں مروجہ قوانین کے تحت عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ بصورتِ دیگر، بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ اس ریاستی جبر کے خلاف پُرامن احتجاج اور جمہوری مزاحمت کا بھرپور آئینی حق رکھتی ہے، اور طلبہ رہنماؤں کی باحفاظت بازیابی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔