کراچی ؛ مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین سنیٹرعلامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی اور ایم ڈبلیو ایم کے وائس چیئرمین علامہ احمد اقبال رضوی کے ہمراہ گزشتہ رات تجارتی مرکز گل پلازہ کا دورہ کیا اور آتشزدگی کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرار دیا۔
ریسکیو اداروں، فائر بریگیڈ اور انتظامیہ نے انہیں اپنی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ مذکورہ حادثہ حفاظتی انتظامات کی سنگین ناکامی کا ثبوت ہے، جس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو فوری اور مناسب مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے متاثرین کی بحالی، زخمیوں کے علاج اور متاثرہ تاجروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کریں۔یہ شہر قائد میں پہلا حادثہ نہیں
ایسی طرح کے ماضی میں بھی واقعات ہوئے لیکن حکومت سے اس سبق نہیں سیکھا۔ شہر کی تمام کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ ایک ہزار سے زائد دکانوں کا راکھ میں تبدیل ہو جانا، چھ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، درجنوں افراد کا زخمی ہونا اور درجنوں شہریوں کا لاپتہ ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کراچی جیسے میگا سٹی میں ایمرجنسی ریسپانس سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ آگ ابتدائی مرحلے میں محدود ہونے کے باوجود بروقت اور موثر کارروائی نہ ہوئی جو جدید آلات، تربیت یافتہ عملہ اور واضح حکمت عملی پر سوال اٹھاتی ہے۔زمینی حقائق تاجروں اور عینی شاہدین کے بیانات حکومتی دعوؤں کی نفی کرتے ہیں کیونکہ ریسکیوآپریشن تاحال جاری ہے۔ اگر نظام مؤثر ہوتا تو آج درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں در بدر نہ پھر رہے ہوتے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے کی غیر جانبدار، عدالتی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پورے شہر کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔اس موقع پرعلامہ صادق جعفری،علامہ مبشر حسن،رضی حیدر سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔