کوئٹہ: آج بلوچستان گرینڈ الائنس کے احتجاج پر پولیس کا دھاوا، اور اس کے نتیجے میں اساتذہ، پروفیسرز اور دیگر سرکاری ملازمین پر تشدد اور گرفتاریاں انتہائی تشویشناک ہیں۔ سب سے قابلِ مذمت عمل یہ ہے کہ عوامی پیسوں سے تنخواہ لینے والے پولیس اہلکار ایک پروفیسر کی بے حرمتی کرکے ان کو سڑک پر گھسیٹ کر لے جا رہے ہیں۔ استاد جو معاشرے میں عظیم رتبہ رکھتے ہیں اس طرح ان کی کم شرفی المناک عمل ہے۔ ہم اس غیر اخلاقی حرکت کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں، بلکہ اسے اساتذہ کی تذلیل کی انتہا سمجھتے ہیں۔
بلوچستان میں اب اپنے حق کے لیے پُرامن آواز بلند کرنا ایک جرم بن چکا ہے، جہاں آئے روز لوگوں کو ان کے نہ کردہ گناہوں کی سنگین سزا بھگتنی پڑ رہی ہے۔ یہ حکومت ایک جانب بہتر گورننس، تعلیمی اصلاحات اور شفاف بھرتیوں کی رٹ لگاتی ہے، تو دوسری جانب اس نے اساتذہ اور ملازمین کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا ہوا ہے، جو ان کے اپنے ہی دعووں کے متضاد ہیں۔
تنظیم اس واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے اور حکامِ بالا سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس عمل کی فوری طور پر شفاف تحقیقات کروا کر ملوث اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔
ایک پروفیسر کو اس طرح سڑک پر گھسیٹنا استاد کی بے حرمتی ہے، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، بساک
![]()
وقتِ اشاعت : January 21 – 2026