|

وقتِ اشاعت :   January 22 – 2026

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی محکموں کی مجموعی ششماہی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر راحیلہ حمید درانی، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو صوبائی سرکاری محکموں کی ششماہی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں، ششماہی کھلی کچہریوں اور محکمانہ ترقیاتی اسکیمات پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کی گئیں۔

وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام محکمے عملے کی حاضری یقینی بناتے ہوئے اپنے ترقیاتی منصوبوں کی مکمل اونرشپ لیں، عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر میکنزم تشکیل دیں اور شکایت سیل کو بھرپور انداز میں فعال کر کے اس کی عوامی سطح پر تشہیر کی جائے۔ انہوں نے مفادِ عامہ سے متعلق سمریوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے، صوبائی کنٹریکٹ پالیسی کا ڈرافٹ دو ہفتوں میں پیش کرنے، محکمہ تعلیم میں کنٹریکچول بھرتیوں میں 100 فیصد میرٹ یقینی بنانے اور جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بھی ہدایات دیں۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ تمام صوبائی محکمے مقررہ وقت کے اندر ترقیاتی اسکیمات کی تکمیل کو یقینی بنائیں گے، بروقت تکمیل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جن اسکیمات پر اب تک پیش رفت نہیں ہوئی انہیں رواں مالی سال میں ہر صورت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے منشیات کے عادی افراد کی مکمل بحالی کے لیے اقدامات تیز کرنے، بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور کہا کہ بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی مختلف حادثات کا سبب بنتی ہے۔

اجلاس میں ششماہی محکمانہ رینکنگ میں ٹاپ 10 کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محکموں کے سیکریٹریز میں وزیر اعلیٰ کی جانب سے تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح اچھی طرزِ حکمرانی ہے اور عوامی نوعیت کے تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کرنا حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔