|

وقتِ اشاعت :   January 23 – 2026

اسلام آباد :قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے سماجی کارکن اور وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافِ رائے رکھنے والوں کو اس طرح نشانہ بنانا آئینِ پاکستان اور جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور بنیادی شہری حقوق مسلسل سلب کیے جا رہے ہیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قانون کو طاقتور طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا قابلِ مذمت عمل ہے جس سے ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور گرفتاری کے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی اس گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

تحریک کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو پرامن سیاسی سرگرمیوں اور آزادی اظہار کا مکمل حق دیتا ہے تاہم موجودہ حالات میں ان آئینی حقوق کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کی گرفتاریاں نہ صرف جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہیں بلکہ معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا کو بھی فروغ دیتی ہیں۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، سیاسی انتقام کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی کارکنوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔