|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2026

کوئٹہ : چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں پولیو کی روک تھام اور خاتمے کیلئے جامع اور موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔

پولیو جیسے خطرناک مرض کو مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا انتہائی ضروری ہے۔ صوبائی حکومت پولیو کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار دے کر مسلسل ویکسینیشن مہمات، نگرانی اور کمیونٹی شمولیت پر زور دے رہی ہے۔

2025 میں صوبے میں ایک بھی پولیو کیس رپورٹ نہ ہونا اس کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ ان کے اضلاع میں (LQAS) کی شرح 90 فیصد سے زائد ہونی چاہئے، تاکہ ویکسینیشن مہم کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے صوبے میں پولیو کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ کیونکہ پولیو ایک خطرناک مرض ہے۔ اس کو ہر حال میں ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ایک ایسا وائرس ہے جو بچوں کو معذور بنا سکتا ہے، اور اس کی روک تھام کیلئے ویکسینیشن ہی واحد موثر طریقہ ہے۔ حکومت نے صوبے کے ہائی رسک علاقوں میں خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔

یہ اقدامات نہ صرف صوبہ بلکہ پورے پاکستان کیلئے اہم ہیں، کیونکہ پولیو کا خاتمہ عالمی سطح پر ایک ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا یہ عزم ایک صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے، جو بچوں کو معذوری سے بچائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ای پی آئی پروگرام میں غیر حاضر ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس موقع پر صوبائی کوآرڈینیٹر سی او سی انعام الحق نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان بھر میں انسداد پولیو مہم بروز پیر دو فروری سے شروع ہوگی۔ مہم میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گزشتہ 15 مہینوں سے بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ بلوچستان کے23 میں سے صرف 2 علاقوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 میں بلوچستان سے پولیو وائرس کے خاتمے میں خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔