|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2026

کوئٹہ: سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ جوپروفیسر اور اساتذہ معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ان کو جیل بھیج دیا گیا ہے،

بلوچستان کی تہذیب اور اقدار میں خواتین اہمیت رکھتی ہیں وہ سڑکوں پر بیٹھی ہیں، حکومت کی تشکیل کا فیصلہ عوام کی حمایت کی بجائے ایک ہوٹل میں ہوا جس کا خمیازہ صوبے کے لوگ بھگت رہے ہیں،

چھوٹے چھوٹے مفادات پر قومی امور کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ بلوچستان مسلسل احتجاج، دھرنوں اور تکالیف سے نکل کر ایک مہذب معاشرہ کی طرف جائے، حکومت سرکاری ملازمین کو رہا کرکے ان کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرئے،یہ بات انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہی ہے۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ جس سماج میں لوگ خود احتسابی کرتے ہیں یقینا وہاں لوگ اپنی غلطیوں کا ازالہ کرکے مسائل سے نکلنے کا راستہ تلاش کرلیتے ہیں،

آج بلوچستان میں پھر سے احتجاج ہے، پریس کلب اور جناح روڈ پر سرکاری ملازمین، خواتین اور ان کے بچے دھرنے پر بیٹھے ہیں، احتجاج کا یہ سلسلہ سالوں سے چلا آرہا ہے مگر مسائل کم نہیں ہورہے بلکہ بڑھ رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک بہت بڑی پالیسی بنانے اور سیاسی عمل کے ذریعے آگے نہیں بڑھے،

ہم روزانہ کے مسائل پر نظر رکھتے ہوئے جب بھی موقع ملتا ہے چھوٹے چھوٹے ایشوز کو قومی ایشوز پر ترجیحی دے کر آگے نکل جاتے ہیں اور قومی امور پیچھے رہ جاتے ہیں اور مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین، خواتین اور دیگر احتجاج کررہے ہیں، جو پروفیسر اور اساتذہ معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ان کو جیل بھیج دیا گیا ہے جس کے ان کے مستقبل پر خوفناک اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2023ء میں کوئٹہ کے ایک بڑئے ہوٹل میں ہونے والے اقتدار کی بندر بانٹ کے میلہ میں اکثر سیاسی جماعتیں اپنے اپنے حصے کے انتظار میں تھیں حالانکہ سیاسی جماعتوں کو چائیے تھا کہ وہ عوام کے پاس جاکر ووٹ مانگتیں،

گلی کوچوں، یونیورسٹیوں، اداروں میں اپنا منشور لوگوں کے سامنے رکھتیں مگر حکومت کی تشکیل کا فیصلہ ہوٹل میں ہوا جس کا خمیازہ صوبے کے لوگ بھگت رہے ہیں، اقتدار کی بندر بانٹ میلہ میں شریک سب کو اپنا حصہ ملا ہوگا مگر آج ایک خاموش اپوزیشن یہ دیکھا رہی ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کی ہمدرد ہے

مگر یہ جماعتیں اس دن اس پالیسی اور فیصلہ میں موجود تھیں جس کے تحت موجودہ حکومت کی تشکیل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے مفادات پر قومی امور کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ بلوچستان مسلسل احتجاج، دھرنوں اور تکالیف سے نکل کر ایک مہذب معاشرہ کی طرف جائے، انہوں نے کہا کہ اس سرزمین کی اپنی تہذیب اور اقدار ہیں

یہاں خواتین کو اہمیت حاصل ہے وہ سڑکوں پر بیٹھی ہیں، سرکاری ملازمین کو رہا کرکے فارم 47 مرتب کرنے والے آئندہ نسلوں سے معافی مانگیں اور عہد کریں کہ وہ آئندہ جعلی حکومتوں کا راستہ روک کر سیاسی عمل کا حصہ بنیں گے تاکہ صوبے میں ایک عوامی نمائندہ حکومت ہو جو آئندہ نسلوں کی بقاء اور خوشحالی کیلئے کام کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت سرکاری ملازمین کو رہا کرکے ان کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردا ادا کرے۔