|

وقتِ اشاعت :   January 30 – 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے اور مزید سخت فوجی آپشنز پر غور شروع کر دیا۔

 رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو مزید نقصان پہنچانے یا اعلیٰ قیادت کو کمزور کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مزید بات چیت پر بھی زور دیا ہے اور کہا ہے کہ امید ہے کہ فوجی کارروائی کی ضرورت نہ پڑے۔

دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ امریکا کوئی فوری کارروائی کرے اور پھر 2 گھنٹے بعد ٹرمپ ٹوئٹ کر دیں کہ کارروائی ختم ہو گئی۔

ادھر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

گفتگو کے دوران خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے لیے پائیدار مذاکرات اور سفارتی تبادلۂ خیال کی اہمیت پر زور دیا گیا۔